خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1000 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1000

خطبات طاہر جلدم 1000 خطبه جمعه ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء اور عجیب شان ہے قرآن کریم کی کہ بنی اسرائیل سے یہ وعدہ تھا کہ تمہیں دو دفعہ زمین میں فساد کا موقع ملے گا اور دو دفعہ تم علو اختیار کرو گے اور دو ہی مرتبہ قرآن کریم میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کو اعلیٰ ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے۔فرمایا وَ لَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ ( آل عمران : ۱۴۰) اے محمد مصطفی ہے کے غلامو! تم ہر گز تھک نہ جانا ، ستی نہ اختیار کرناوَ لَا تَحْزَنُوا اور جو کچھ تمہیں دکھ دیئے جارہے ہیں یا نقصان پہنچایا جارہا ہے ان پر غم نہ کرنا وَ اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ تم اعلیٰ ٹھہرو گے اور تمہارے مقابل دشمن لازماً رسوا اور ذلیل کئے جائیں گے اِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ شرط یہ ہے کہ تم مومن ٹھہرنا۔پھر دوسری جگہ فرمایا فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ * وَاللهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَّتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ ) ( محمد ۳۶) کہ دیکھوست نہ ہوجانا ایسی حالت میں کہ سستی تمہیں مجبور کر دے کہ کمزوری کی وجہ سے صلح کے لئے ہاتھ بڑھاؤ صلح کے لئے ہاتھ بڑھانا اچھی چیز ہے لیکن بزدلی اور کمزوری کے نتیجے میں صلح کے لئے ہاتھ بڑھانا یہ بہت مکروہ فعل ہے جس سے خدا تعالیٰ امت محمدیہ کومنع فرمارہا ہے۔وَ اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ اور پھر تمہیں ضرورت بھی کیا ہے۔ایک با غیرت آدمی تو مٹ جانا پسند کرتا ہے بجائے اسکے کہ کمزوری کے نتیجے میں ہاتھ بڑھائے صلح کی خاطر ، امن کی خاطر صلح کا پیغام دینا یا دنیا میں اصلاح کے لئے اپنے دشمن کو معاف کر دینا یہ بالکل اور بات ہے لیکن کمزور ہو کر جان بچانے کے لئے صلح کے لئے ہاتھ بڑھانا یہ ایک ایسی بزدلی ہے جو قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ امت محمدیہ کو زیب نہیں دیتی لیکن ساتھ یہ بھی فرمایا اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ یعنی حد ہوگی بے وقوفی اور حماقت کی کہ تم یہ کمزوری دکھا جاؤ جبکہ تمہیں وعدہ ہے کہ تم اعلیٰ قرار دیئے جاؤ گے ہم نے لازماً غالب آتا ہے وَاللهُ مَعَكُم خدا تمہارے ساتھ ہے تمہیں کیا خوف ہے غیر اللہ کا کیا خوف ہے وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَلَكُمْ وہ ہر گز تمہارے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔تو جن بنی اسرائیل کو دو دفعہ جھوٹے علو کا موقع دیا جائے گا کہ وہ تمام دنیا میں خدا کے بندوں کو مغلوب کر دیں ان کے مقابل پر دو ہی مرتبہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کو یہ خوش خبری دی گئی ہے اور آنحضرت اللہ کے مقام کی عظمت کا بھی اس سے اظہار ہوتا ہے۔انبیاء میں سے صرف حضرت موسی کو چنا گیا یہ کہنے کے لئے کہ تم اعلیٰ ٹھہرو گے۔مگر یہاں محمد رسول اللہ ﷺ کو