خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 999 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 999

خطبات طاہر جلدم 999 خطبه جمعه ۲۰ / دسمبر ۱۹۸۵ء کے ستم کا نشانہ بنی ہوئی تھی جب وہ قوم خود بگڑ گئی خدا نے اسے ترقیات عطا فرما دیں تو اور بگڑنے کے بعد اس نے خود زمین میں علو اختیار کرنا شروع کیا اور یہ بات بھول گئی کہ اس کا دشمن تو صرف اس لئے ہلاک کیا گیا تھا کہ اس نے ان کے خلاف علوا اختیار کیا تھا۔یہ کیسے آخری ہلاکت سے بچ جائیں گے اگر یہ نصیحت نہیں پکڑیں گے اور خود فرعون کی جگہ لے کر خدا کے بندوں کے مقابل پر علو اختیار کرنا شروع کر دیں گے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا ( بنی اسرائیل : ۵) کہ تمہارے متعلق یہ لکھی ہوئی بات تھی کہ اے بنی اسرائیل دو دفعہ زمین میں علو اختیار کرو گے اور فساد کے ساتھ علو اختیار کرو گے لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَ عُلُوا كَبِيرًا بہت ہی بڑا علو اختیار کرو گے۔جب فرعون نے علو کیا تو اس نے یہ دعویٰ کیا انا ربکم الاعلیٰ قرآن کریم فرماتا ہے: فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الأعلى (النازعات : ۲۵) یہاں تک دعوی کر بیٹھا کہ میں ہی تمہارا اعلیٰ رب ہوں۔اس کے مقابل پر اللہ تعالیٰ نے اس کو حقیر اور ذلیل کرنے کے لئے ایک عجیب رنگ اختیار فرمایا۔موسیٰ کو مخاطب کر کے فرمایا : لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلى (طه: ۶۹) یہ مجھ پر علو اختیار کر رہا ہے یہ دعوے کر رہا ہے کہ مجھ سے بھی بڑا ہے تو میرا ایک حقیر ادنی خادم ہے اور اتنا کمزور ہے کہ ڈر رہا ہے اپنے ہاتھ کے سونے سے ڈر رہا ہے فرمایا: لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى ہرگز نہ ڈر تو ایک عظیم اور اعلیٰ ذات کی طرف منسوب ہونے والا بندہ ہے اس لئے اس فرعون پر تجھے ہم علو عطاء کریں گے اور اس کے مقابل پر تو اعلیٰ ٹھہرے گا۔تو کہاں یہ کہ نعوذ باللہ من ذالک وہ اپنے رب سے اعلیٰ ہو وہ اس کے ایک نہات ہی ادنی اور ایک عاجز بندے کے مقابل پر بھی ذلیل اور خوار کر دیا گیا اور وہی آخر اعلیٰ ٹھہرا۔اور موت سے پہلے اس کو اقرار کرنا پڑا کہ موسیٰ“ بہر حال غالب آیا اور میں مغلوب ہو گیا ہوں۔اسی طرح بنی اسرائیل کے لئے جب فرمایا کہ تم دو دفعہ زمین میں علو اختیار کرو گے تو اس کے مقابل پر بھی کسی قوم سے یہ وعدہ ہونا چاہئے تھا کہ تمہارے مقابل پر وہ علو اختیار نہیں کر سکیں گے اور لازماً نا کام اور ذلیل ہوں گے اور وہ قوم حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ماننے والوں کی قوم ہے۔