خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 998
خطبات طاہر جلدم 998 خطبه جمعه ۲۰ / دسمبر ۱۹۸۵ء غاصبانہ قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی اس لفظ پر فرعون کے لئے استعمال ہوا ہے۔کسی نبی کے مد مقابل کے متعلق خدا تعالیٰ نے لفظ علو کا اس طرح بار بار استعمال نہیں فرمایا لیکن فرعون کے متعلق فرماتا ہے: إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا (القصص:۵) کہ فرعون نے زمین میں علو اختیار کیا جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اس کا علوز مین سے نسبت رکھنے والا علو ہے۔پھر فرمایا : اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالِ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ (یونس :۸۴) فرعون زمین میں علو کر نے والا ہے۔اور اس کے مقابل پر مومنوں کے متعلق یہ صفت بیان فرمائی کہ وہ زمین میں علو نہیں چاہتے۔فرمایا: تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوا فِي الْأَرْضِ یہ دار آخرۃ ہے۔یہ آخرت کی کامیابی جس سے مراد دنیا میں بھی ہر مقابلے کے آخر پران کا کامیاب رہنا ہے اور یوم آخرت کی کامیابی بھی مراد ہے۔تو فرمایا بالآخر فتح پانے والے یہ لوگ یہ مومنین کی جماعت لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ یہ زمین پر غلبے کی تمنا رکھ کر کوئی کام نہیں کرتے یا زمینی غلبہ کے تصور میں کوئی کام نہیں کرتے۔روحانی غلبے کا تصور تو ان کے ذہن میں ہوتا ہے وہی ان کے محرکات میں سب سے بڑا محرک ہوتا ہے لیکن عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔پھر فرعون نے جس قوم پر علو اختیار کیا قوموں میں سے اسی قوم کے متعلق پھر خدا تعالیٰ نے لفظ علو استعمال فرمایا اور بہت بڑی اس میں عبرت ہے۔خصوصاً جماعت احمدیہ کے لئے اس میں بہت ہی گہرا پیغام ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے خصوصیت کے ساتھ ایک عبرت کا نشان ہے اس بات میں۔یہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کا کمال ہے کہ اگر چہ بظاہر آیات مختلف وقتوں میں الگ الگ استعمال ہوئی ہیں لیکن جب ان کو جوڑ کر پڑھتے ہیں تو حیرت انگیزان میں ربط نظر آتا ہے ،مضمون کے اندر یکسانیت ملتی ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ملتا ہے۔فرعون کو چنا گیا اس اظہار کے لئے کہ بعض لوگ زمین میں علو اختیار کرتے ہیں اور خدا کے کمزور بندوں پر غالب آکر علو کا دعوی کرتے ہیں۔اس کے مقابل پر بنی اسرائیل کو ایک نہایت ہی مظلوم حالت میں دکھایا گیا جن پر حد سے زیادہ مظالم توڑے جارہے تھے آیا اور پھر وہ قوم جو کسی زمانہ میں حد سے زیادہ مظلوم تھی کسی فانی بندہ کے علو