خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 997 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 997

خطبات طاہر جلدم 997 خطبه جمعه ۲۰ /دسمبر ۱۹۸۵ء باری تعالیٰ کے ساتھ چسپاں ہو کر ان کو ایک نئی شان کے ساتھ یہ لفظ نمایاں کر دیتا ہے۔پس جب آپ عظیم کہتے ہیں تو اسی لفظ عظیم کے اندر خدا کی ہر صفت کا تصور باندھ سکتے ہیں اور یہ سوچ سکتے ہیں کہ میرا وہ رب عظیم ہے جو یہ ہے، میرا وہ رب عظیم ہے جو یہ ہے۔اور ہر قسم کی دعا اسی تحمید کے اندر داخل کر سکتے ہیں یعنی بظاہر خدا کی حمد کے گیت گا رہے ہیں ، بباطن بھی حمد کے ہی گیت گا رہے ہیں لیکن ساتھ ہی دعا کا مطلب بھی حاصل ہو جاتا ہے۔کسی خاص حالت میں جب اپنے گنا ہوں کے تصور سے انسان کی جان ہلاک ہو رہی ہو اس وقت رَبِّيَ الْعَظِیم جب کہے گا تو خدا کی مغفرت کی عظمت کا تصور نمایاں طور پر اس کے سامنے آئے گا۔اس کے عفو کا تصور نمایاں طور پر اس کے سامنے آئے گا اور یہ سوچے گا کہ ہاں بہت گناہگار ہوں لیکن میرا رب بہت عظیم ہے، اپنی مغفرت میں بہت عظیم ہے، اپنے عضو میں بہت عظیم ہے۔غرضیکہ اس لفظ کی عظمت میں تمام عظمتیں سما جاتی ہیں اور اس ایک صفت کے اندر خدا تعالیٰ کی تمام صفات کا بیان ہو سکتا ہے اور دعا کے رنگ میں بیان ہوسکتا ہے۔جہاں تک لفظ اعلیٰ کا تعلق ہے اگر چہ عظیم لفظ میں مدمقابل کا تصور ذہن میں نہیں ابھرتا بلکہ اپنا عجز کسی عظیم کے مقابل پر سامنے آتا ہے۔مگر علو لفظ میں ایک مد مقابل کا تصور بھی لازماً ابھر آتا ہے۔ایسی چیز جو کسی دوسرے پر غالب ہو کسی دوسرے سے بلند ہو اور یہ علو جو خدا تعالیٰ کی صفت کا حصہ ہے یہ بھی خدا تعالیٰ کی ہر صفت کے ساتھ چسپاں ہو کر غیر اللہ کے مقابل پر اطلاق پائے گا۔جب آپ کہتے ہیں کہ خدا اعلیٰ ہے تو اپنی ہر صفت میں ہر غیر اللہ کے مقابل پر اعلیٰ ہے اور ان معنوں میں اس لفظ میں بھی ایک علو مرتبت پائی جاتی ہے جو ہر صفت کے ساتھ متعلق ہو جاتی ہے۔لفظ علو پر جب ہم غور کرتے ہیں قرآن کریم کی مختلف آیات کی روشنی میں تو ایک خیال تو اس طرف جاتا ہے کہ لفظ علوم میں ایک تنزیہی رنگ پایا جاتا ہے۔یعنی فی الحقیقت سوائے خدا کے کوئی اعلیٰ نہیں ہو سکتا اور جس کسی نے بھی دعوی کیا اس نے جھوٹا دعویٰ کیا۔دوسرے اگر کوئی اعلیٰ بنا بھی ہے تو زمینی طور پر ادنی صورت میں اعلیٰ بنا ہے لیکن فی الحقیقت اسے کوئی بلندی نصیب نہیں ہوئی۔تیسرے یہ کہ اگر کوئی اعلیٰ بنا چاہتا ہے تو خدا کے حضور جھکنے کے نتیجے میں وہ اعلیٰ بن سکتا ہے اور تب اعلیٰ ہو سکتا ہے اگر اس کی نسبت خدا کی طرف ہو جائے اس کے بغیر غیر اللہ کوکوئی علونصیب نہیں ہوسکتا۔جہاں تک خدا تعالیٰ کے انبیاء کے دشمنوں کا تعلق ہے۔سب سے زیادہ لفظ علوان معنوں میں کہ