خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 766
خطبات طاہر جلد ۳ 766 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء بسر کر رہا ہے وہ اپنے آپ کو مسلمان کہے بھی ، اسلام کی تبلیغ بھی کرے جیسا کہ کرتا ہے تو نہ حکومت کو اسکی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے نہ وہ حکومت کی نظر میں آتا ہے اور اگر کبھی آ بھی جائے تو اسکے پکڑے جانے سے فرق کوئی نہیں پڑتا۔اسکی تو اپنی خواہش پوری ہو جاتی ہے کہ میں پکڑا جاؤں اور خدا کی خاطر میں بھی کوئی تکلیف اٹھاؤں لیکن ایک خلیفہ وقت اگر پاکستان میں السلام علیکم بھی کہے تو حکومت کے پاس یہ ذریعہ موجود ہے اور وہ قانون موجود ہے جس کو بروئے کار لا کر وہ اسے پکڑ کر ۳ سال کے لئے جماعت سے الگ کر سکتے ہیں اور یہی نیت تھی اور ابھی بھی ہے کہ جہاں تک جماعت کے بڑے آدمی یعنی جو دنیا کی نظر میں بڑے کہلاتے ہیں لیکن مراد یہ ہے کہ جماعت کے ایسے لوگ ، ایسے ذمہ دار افسران جو کسی نہ کسی لحاظ سے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، ارادے یہ ہیں کہ ان کے اوپر کسی طرح ہاتھ ڈالا جا سکے اور اس کا آغا ز انہوں نے خلافت سے کیا۔چنانچہ میرے آنے سے دو تین دن پہلے کے اندر جو واقعات ہوئے ہیں ان کا اس وقت تو ہمیں پورا علم نہیں تھا کیونکہ خدا کی تقدیر نے خاص رنگ میں میرے باہر بھجوانے کا انتظام فرمایا۔اسکی تفاصیل کچھ میں نے بیان کی تھیں کچھ آئندہ کسی وقت بیان کروں گا لیکن میں جس بات کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خلافت کے قلع قمع کی ایک نہایت بھیانک سازش تھی جسکی پہلی کڑی یہ سوچی گئی تھی کہ خلیفہ وقت کو اگر وہ کسی طرح بھی مسلمان ظاہر کرے اپنے آپ کو تو فوری طور پر قید کر کے تین سال کے لئے جماعت سے الگ کر دیا جائے اور ہمارے آنے کے بعد جو اطلاعیں ملیں ان سے معلوم ہوا کہ یہ آرڈرز جاچکے تھے بلکہ بعض حکومت کے افسران نے جو بڑے ذمہ دار اور اوپر کے افسران ہیں انہوں نے بعض احمدیوں کو بتایا کہ حیرت کی بات ہے تم لوگ کس طرح اتنی جلدی حرکت میں آگئے اور تمہیں کیسے پتہ چلا کہ کیا ہونے والا ہے کیونکہ آرڈرز یہ تھے کہ اگر یہ خطبہ دے جو آرڈینینس کے دوسرے دن آ رہا تھا تو خطبہ چونکہ ایک اسلامی کام ہے اور صرف اسی بہانے پر اس کو پکڑا جاسکتا ہے کہ تم مسلمان بنے ہو خطبہ دے کر، تشہد پڑھا ہے اس کے نتیجہ میں پکڑا جا سکتا ہے تو اگر خطبہ دے تو تب پکڑو اور اگر خطبہ نہ دے تو پھر کوئی بہانہ تلاش کرو اور ایک بھی مسجد میں ربوہ کے اگر اذان ہو جائے یا کوئی اور بہانہ مل جائے تو تب بھی اس کو پکڑ لو اور آخری آرڈر یہ تھا کہ اگر کوئی بہانہ نہ بھی ملے تو تر اشواور پکڑو۔مراد ی تھی کہ خلیفہ وقت اگر ربوہ میں رہے تو ایک مردہ کی حیثیت سے