خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 765
خطبات طاہر جلد ۳ 765 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء منوانا جانتی ہوں اور عقل کو کلیتہ چھٹی دے کر اس بات سے بے نیاز ہوکر کہ دنیا ہمارے متعلق کیا کہتی ہے کیا سوچتی ہے، جو بات ان کو سمجھائی جائے وہ اس کو کر گزرنے کے لئے آمادہ ہوں۔ایسی Regimes ایسی طاقتیں جب بھی دنیا میں آتی ہیں تو تباہی مچا دیا کرتی ہیں۔چنانچہ اسلام کے ساتھ اس وقت یہ ہو رہا ہے۔جہاں مشرقی طاقتوں کا زور چل رہا ہے وہ اپنی مرضی کی حکومتیں مذہب اسلام کے نام پر قائم کئے ہوئے ہیں۔جہاں مغربی طاقتوں کا زور چل رہا ہے وہ اپنی پسند کی حکومتیں قائم کر رہے ہیں اور دونوں کی اس معاملہ میں ایک دوسرے سے سبقت کی دوڑ ہورہی ہے۔چنانچہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یا مشرق وسطی میں جو کچھ ہورہا ہے یا مشرق وسطی کی جن طاقتوں کو ان اغراض کے لئے استعمال کیا جارہا ہے یہ ساری باتیں عالمی سیاست کا اور مشرق اور مغرب کی جنگ کا ایک طبعی نتیجہ ہیں اور یہ ساری کڑیاں ان کے ساتھ جا کر ملتی ہیں۔بہر حال اس وقت جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے یہ ابھی پوری طرح آپ کے سامنے کھل کر نہیں آیا، میں مختصراً آپ کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ سوائے اس کے کہ اللہ کی تقدیر کسی ایسے وقت میں آکر ان کی اس تدبیر کو کاٹ دے اور خدا کی پکڑ کا وقت ان کی سکیموں کے مکمل ہونے کے وقت سے پہلے آجائے ان کے ارادے ایسے ہیں کہ ان کو سوچ کر بھی ایک انسان جس کا کوئی دنیا میں سہارا نہ ہو اسکی ساری زندگی بے قرار ہو سکتی ہے۔اس کے تصور سے بھی انسان کا وجو دلرز نے لگتا ہے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ نہ مجھ پر یہ اثر ہے نہ آپ پر یہ اثر ہوگا کیونکہ میں بھی جانتا ہوں کہ ہمارا خدا موجود ہے جو ہمارے ساتھ رہا ہے ہمیشہ اور ہمارے ساتھ ہمیشہ رہے گا اور آپ بھی یہ جانتے ہیں اس لئے جب میں آپ سے یہ بات کرتا ہوں تو ڈرانے کی خاطر نہیں کرتا صرف بتانے کے لئے کہ آنکھیں کھول کر وقت گزاریں کہ کیا ارادے ہیں جن کی طرف یہ ملک حرکت کر رہا ہے جن کو رفتہ رفتہ کھول رہا ہے۔اس دور میں یعنی ۱۹۸۴ء کی جو شرارت ہے اس میں ایک مکمل سکیم کے تابع پاکستان میں جماعت احمدیہ کے مرکز کو ملیا میٹ کرنے کا ارادہ تھا اور جماعت احمدیہ کی ہر اس انسٹی ٹیوشن ہر اس تنظیم پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ تھا جس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے ایسے قانون بنائے جن کے نتیجہ میں خلیفہ وقت پاکستان میں رہتے ہوئے خلافت کا کوئی بھی فریضہ سرانجام نہیں دے سکتا۔ایک احمدی جو دیہات میں زندگی بسر کر رہا ہے یا شہروں میں بھی غیر معروف زندگی