خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 767 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 767

خطبات طاہر جلد ۳ 767 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء وہاں رہے اور اپنے فرائض منصبی میں سے کوئی بھی ادا نہ کر سکے۔اگر وہ ایسا کرنے پر تیار ہو ایک مردہ کی طرح زندہ رہنے پر تیار ہو تو ساری جماعت کا ایمان ختم ہو جائے گا ،ساری جماعت یہ سوچے گی کہ خلیفہ وقت ہمیں تو قربانیوں کے لئے بلا رہا ہے، ہمیں تو کہتا ہے کہ اسلام کا نام بلند کرو اور خود ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتا۔چنانچہ جماعت کے ایمان پر حملہ تھا یہ اور اگر خلیفہ وقت بولے جماعت کا ایمان بچانے کے لئے تو اس کو تین سال کے لئے جماعت سے الگ کر دو۔چونکہ نظام جماعت ایک نئے خلیفہ کا انتخاب کر ہی نہیں سکتا جب تک پہلا خلیفہ مر نہ جائے اس وقت تک اس لحاظ سے تین سال کے لئے جماعت اپنی مرکزی قیادت سے محروم رہ جائے گی اور جس جماعت کو خلیفہ وقت کی عادت ہو جو نظام خلیفہ کے محور کے گرد گھومتا ہو اس کو کبھی بھی خلیفہ کی عدم موجودگی میں کوئی انجمن نہیں سنبھال سکتی۔یہ ایک بہت تلخ تجربہ ہم نے خود دیکھا ہے اس میں سے گزرے ہیں کہ جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیمار تھے، آخری دنوں میں خصوصیت کے ساتھ جب آپ کی تکلیف بڑھ گئی اور جماعت نہیں چاہتی تھی کہ فیصلوں کے لئے زیادہ تکلیف دے۔اگر چہ اہم فیصلے آپ ہی کرتے تھے اور فیصلے کی قوت میں کوئی بھی فرق نہیں تھا لیکن بیماری کی وجہ سے ڈاکٹر ز بھی یہ ہدایت دیتے تھے کہ کم سے کم بوجھ ڈالا جائے اور جماعت خود بھی نہیں چاہتی تھی تو بہت سے فیصلے بہت سے کام جو خلیفہ وقت کیا کرتا تھا جو کرتا ہے ہمیشہ وہ صدرانجمن یا تحریک جدید یا دوسری انجمن کرنے لگیں اور وہ دور جماعت کے لئے سب سے زیادہ بے چینی کا دور تھا کیونکہ عادت پڑی ہوئی تھی خلیفہ وقت سے رابطے کی ، اس سے فیصلے کروانے کی ، اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی تو انجمنوں کے ذمہ جب یہی کام لگے تو اس وقت محسوس ہوا کہ کتنا فرق ہے انجمنوں کے کاموں میں اور خلیفہ وقت کے کاموں میں اور ایک لحاظ سے یہ جماعت کے لئے بہت ہی مفید ثابت ہوا کیونکہ وہ لوگ جو پہلے غیر مبائعین سے متاثر تھے اور وہ لوگ جو کچھ نہ کچھ اثر لے چکے تھے ان کے پروپیگنڈے کا ، وہ کلیہ تائب ہو گئے اس بات سے ان کو اس وقت محسوس ہوا اس بیماری کے دوران کہ خلافت کا کوئی بدل نہیں ہے۔ناممکن ہے کہ خلافت کی کوئی متبادل چیز ایسی ہو جو خلافت کی جگہ لے لے اور دل اسی طرح تسکین پا جائیں۔تو تین سال کا عرصہ جماعت سے خلافت کی ایسی علیحدگی کہ کوئی رابطہ قائم نہ رہ سکے یہ اتنی خوفناک سازش تھی کہ اگر خدانخواستہ یہ عمل میں آجاتی تب آپ کو اندازہ ہوتا کہ کتنا بڑاحملہ جماعت کی