خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 749
خطبات طاہر جلد ۳ 749 خطبه جمعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۸۴ء گمان دل سے مٹا دیں کہ محمد مصطفی ﷺ کی امامت میں وہ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔وہ ان ائمہ کی امامت میں اٹھائے جائیں گے جن آئمہ کی وہ پیروی کر رہے ہیں، جو ہمیشہ مذہب کی مخالفت کیا کرتے تھے۔وَاِنْ كَادُوا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتَفْتَرِى عَلَيْنَا غَيْرَهُ وَإِذَا لَّا تَّخَذُوكَ خَلِيْلًا جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کوئی ایک بھی ایسی بات نہیں جو اس سے پہلے دشمنان اسلام نے کی ہو اور انہوں نے اختیار نہ کر لی ہو۔چنانچہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو بھی فتنوں میں ڈالتے تھے، مصیبت میں مبتلا کرتے تھے ، دکھ دیتے تھے کہ اپنے قول سے اپنے مسلک سے ذرا سا سرک جاؤ اور کبھی لالچ دیتے تھے اور یہی دو چیزیں ہیں بعینہ آج احمدیوں کے متعلق پاکستان میں جماعت کے دشمن اختیار کر رہے ہیں۔لَيَفْتِنُونَكَ میں جو فتنے کا ذکر ہے قرآنی محاورے کے مطابق آپ ایک جگہ نہیں متعدد جگہ اس لفظ کو ان معنوں میں پڑھیں گے کہ جو دشمن جبر کے ذریعہ مذہب کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے تو اسے قرآن کریم فتنہ کہتا ہے۔وہ لوگ جب قرآن کریم کی رو سے آگئیں لگاتے ہیں، مال لوٹتے ہیں گھر جلاتے ہیں اور صرف وجہ یہ ہوتی ہے دشمنی کی کہ یہ لوگ خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لے آئے ہیں۔ان کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے اگر وہ فتنہ سے باز نہیں آئے اور انہوں نے تکرار کی تو پھر ہم بھی انہیں پکڑیں گے اور ہم بھی پکڑ میں تکرار کریں گے۔اِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابٌ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ ) ( البروج : 1) توفَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنت کا جو نقشہ کھینچا ہے اس سے پہلی آیات میں اس کی تفصیل موجود ہے کہ وہ لوگ جو مومنوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں آگئیں لگا کر اور جلا کر اور ظلم کر کے اور ستم ڈھا کر اس بات کا پابند کرتے ہیں کہ وہ اپنے دین سے منحرف ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ انہیں یقیناً شدید سزا دے گا۔تو یہاں بھی فتنہ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے ورنہ حضرت محمد مصطفی علیہ کو کون فتنے میں ڈال سکتا تھا؟ خدا کا رسول کیسے فتنہ میں پڑھ سکتا ہے تو سوائے اس کے کوئی معنی نہیں کہ تجھ پر مذہبی تشدد کیا جائے گا، تجھ پر مذہبی لحاظ سے مظالم ڈھائے جائیں گے ستم توڑے جائیں گے۔