خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 748
خطبات طاہر جلد ۳ 748 خطبه جمعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۸۴ء تھے اور ہمیں دنیا کے سب سے مقدس امام کے ساتھ وابستہ کر دیا۔ان کے نقطہ نگاہ سے تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيْرى (النجم :۲۳) بڑی ہی بیوقوفوں والی تقسیم تم نے کی وَأَضَلُّ سَبِيلان حد سے زیادہ گمراہی کا لیبل ان کے اوپر چسپاں ہو جاتا ہے اس واقعہ سے اور امر واقعہ یہ ہے کہ مذہبی تاریخ میں یہ واقعہ پہلی دفعہ رونما ہورہا ہے۔ہمیشہ اختلاف کے نتیجہ میں دباؤ ڈال کر چیزیں مٹائی جاتی ہیں، نقش مٹائے جاتے اس لئے کہ ایک آدمی کو وہ نقش پسند نہیں۔خدا کے مخالفین نے خدا کے ماننے والوں پر دباؤ ڈالے کہ تم جو بات کہتے ہو خدا ایک ہے یہ ہمیں پسند نہیں ہے اس لئے مٹا دو، تم کہتے ہو کہ تمہارا رسول فلاں ہے یہ بات ہمیں پسند نہیں ہے اس لئے اس کو ختم کردو لیکن کبھی آج تک تاریخ عالم میں یہ واقعہ نہیں گزرا تھا کہ کسی قوم نے اپنے عقیدے کے اوپر ہاتھ صاف کرنے شروع کئے ہوں اور یہ کہ کر دشمن کو مجبور کیا ہو کہ تم ہمارا عقیدہ تسلیم کر رہے ہو اس لئے اس کو مٹادو۔یہ تو ایسے ہی بات ہے جیسے کہا جائے کہ ہمارے اپنے دل میں نہیں ہے تو پھر تم اپنا کیا حق رکھتے ہو پھر اسے استعمال کرتے ہو، ہمیں تو غصہ آتا ہے۔ویسی بات ہے جیسے کسی نے کسی کو زبر دستی کلمہ پڑھانے کی کوشش کی تھی ، آخر کار آکے اس بیچارے نے کہا قتل نہ کرو پڑھا دو کلمہ تو اس نے کہا شکر کرو بچ گئے تم مجھے تو آپ ہی کلمہ نہیں آتا۔وہ دلیل تو لگ جاتی ہے یہاں۔یہ کہیں کہ تم عجیب احمدی بیوقوف لوگ ہو ہمارا کلمہ پڑھ رہے ہو جبکہ ہم نہیں پڑھ رہے وہ کلمہ، ہمارا کلمہ لکھتے ہو جب کہ ہمارے دل اس رسم سے خالی پڑے ہیں، تم محبت کا اظہار کر رہے ہو جب کہ ہمارے دل محبت سے اس طرح خالی ہیں جس طرح گھونسلے کو پرندہ چھوڑ دیا کرتا ہے، اس لئے ہمیں غصہ آرہا ہے، تم مٹاؤ اس کلمہ کو ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے۔یہ واقعہ مذہب کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا کہ اختلاف کی بنا پر جبر روانہ رکھا گیا ہو بلکہ اتفاق کی بنا پر جبر روا رکھا گیا ہو۔اس کو کہتے ہیں اندھا پن اور کسی نے خوب کہا ہے کہ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی تو یہ ہے قرآن کریم کا منشاء روشنی والوں کو دائیں ہاتھ والوں کو ممتاز کر کے الگ کر دیا پھر ذکر فرمایا: وَمَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى جنہوں نے اس دنیا میں محمد مصطفی ﷺ کا نور نہیں پہنچانا نہیں دیکھ سکتے تھے ، جن کو سوسو حجاب حائل ہو چکے تھے ، جو سنت نبوی کی تمیز نہیں کر سکتے تھے کہ سنت نبوی کیا ہے اور سنت کفار کس کو کہتے ہیں ، وہ یہ