خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 750 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 750

خطبات طاہر جلد ۳ 750 خطبه جمعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۸۴ء وَإِنْ كَادُوا لَيَفْتِنُونَكَ اگر ان کی پیش جائے اگر ان کا بس چلے تو ہر طرح سے تجھ کو ظلم وستم کا نشانہ بنا دیں بلکہ قریب ہے کہ یہ بنادیں گے۔وان گادو ا کے یہ دونوں معانی نکلتے ہیں کہ عنقریب یہ واقعہ ہونے والا ہے لَيَفْتِنُونَكَ تجھے فتنہ میں ضرور ڈال دیں گے۔عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ اس وجہ سے یعنی نیت ان کی یہ ہوگی کہ تجھے خدا تعالیٰ کی وحی سے جو تجھ پر نازل کی جاتی ہے جو ہم تجھ پر نازل کر رہے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے، اس سے تجھے ذرا سا ہٹنے پر مجبور کر دیں کہ تو اتنی سی بات ہماری مان جاور نہ ہم تمہیں ماریں گے، ورنہ تشدد کریں گے، ورنہ مظالم کا نشانہ بنائیں گے، خدا تعالیٰ یہ کہتا ہے تمہیں لیکن تم ہماری خاطر ذرا سایہ بات مان جاؤ ور نہ تو ہر قسم کے جبر سے ہی کام لیں گے تیرے خلاف اور اگر تو جبر سے نہیں مانے گا تو یہ کہیں گے کہ اچھا تم ہماری بات مان کر دیکھو ہم تمہیں سینے سے لگالیں گے۔وَإِذًا لَّا تَّخَذُوكَ خَلِيْلًا اگر تم ان کی بات مانو گے تو تمہیں یہ ضرور سینے سے لگالیں گے۔یہ تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ آج کل پاکستان کی باتیں دیکھ کر خدا تعالیٰ نے یہ خبر بھیجی ہے یہی ہمیں کہا جارہا ہے کہ سیدھے ہو جاؤ خدا تعالیٰ نے جس کو امام بنایا ہے تمہارے لئے یعنی محمد مصطفی ﷺ اس کا کلمہ چھوڑ دو یا پھر اپنے مسلک سے تھوڑا سا ہٹ جاؤ، اگر نہیں ہٹو گے تو ہم تمہیں ماریں گے اور اگر ہٹ جاؤ گے اپنے مسلک سے تو ہم تمہیں سینہ سے لگالیں گے تمہیں اپنا دوست بنا لیں گے۔ہمارا بھی ان کو وہی جواب ہے جو محم مصطفی ﷺ کا جواب ہے کہ اے خدا کے مقابل پر ہمیں سینہ سے لگانے والو! ہم ان سینوں پر تھوکتے بھی نہیں ہیں خدا کے مقابل پر لعنت ڈالتے ہیں ان سینوں پر جومحمد مصطفی ﷺ کے دشمنوں کا جذبہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ہمیں تو محمد مصطفی ہے کے قدموں کی خاک ان سینوں سے کروڑوں، اربوں گنا زیادہ پیاری ہے، ہم نہیں چھوڑیں گے اس امام کو جس امام سے تم ہمیں کاٹنا چاہتے ہو اور اس امام کو بھی نہیں چھوڑیں گے جو اس کی غلامی سے پیدا ہوا ہے جو اس کی کامل محبت کے نتیجہ میں تخلیق کیا گیا ہے۔اس سے بڑھ کر عاشق صادق کبھی اسلام میں پیدا نہیں ہوا جس طرح حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت محمد مصطفی علی سے محبت کی اور اب آپ کے عشق میں اپنا سب کچھ لٹایا۔نہ ہم اپنے امام کامل حضرت محمد مصطفی ﷺ کو چھوڑیں گے نہ اس امام مہدی کو چھوڑیں گے جو آپ کی خاطر بنایا گیا جو آپ کے پیغام کو دنیا میں شائع کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔جو آپ کی قدموں کے خاک سے بنایا گیا۔کیسے ممکن