خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 734
خطبات طاہر جلد ۳ 734 خطبه جمعه ۱۴؍ دسمبر ۱۹۸۴ء کوڑی کی بھی حیثیت نہیں ان اماموں کی جن کو دنیا والے از خود بنالیا کرتے ہیں۔وہ امام ہے عزت کے لائق اور شرف کے لائق جن کو خدا مقرر کیا کرتا ہے تو امام مہدی کیسے ہونگے ، ان کا مقام کیا ہوگا، جن کو خدا خود مقرر فرمائے گا اور جن کا ماننا تمام امت پر لازم قرار دے گا۔امام مہدی کے یہ دو خواص ہیں۔بتاؤ تو سہی کہ کیا ان خواص کا حامل کبھی دنیا میں غیر نبی بھی پیدا ہوا ہے؟ سارے مذہب کی تاریخ میں سے کوئی ایک نکال کر دکھا دو ایسا شخص جس کو خدا نے خود مقررفرمایا ہو اور ایسا شخص جس کے انکار کو کفر قرار دے دیا گیا ہو۔یہی تعریف ہے نبوت کی ہم خود یہ دونوں باتیں امام مہدی میں مانتے ہو لیکن اتنی جرات نہیں ہے، صداقت کے ساتھ ایسی وابستگی نہیں ہے کہ روشنی کو روشنی کہ سکو اور اندھیرے کو اندھیرا کہہ سکو۔جب تک تمہارے اندر امام مہدی کے آنے کا تصور موجود ہے تم جھوٹ بولو گے اگر حضرت مرزا صاحب کے متعلق یہ الزام لگاؤ گے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے مقابل پر کسی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔آپ نے تو ایک جگہ یہ لکھا ہے کہ مجھے خالی نبی نہ لکھا کر وجب لکھوامتی نبی صلى الله لکھو کیونکہ مجھے میری ساری شان حضرت محمد مصطفی ﷺ کی غلامی اور آپ کی امت میں سے ہونے میں ہے۔پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں اگر میرے اعمال کوہ ہمالیہ کے برابر بھی ہوتے اور میں حضرت محمد صلى الله مصطفی ﷺ سے وابستہ نہ ہوتا تو خدا ان سارے اعمال کو اور مجھے اٹھا کر جہنم میں پھینک دیتا، پھر کوئی بھی قدر نہ رہتی کیونکہ جب سے حضور اکرم ﷺ کا نور ظہور پذیر ہوا ہے اس کے بعد سے وہی قبول کیا جائے گا جو محمد مصطفی معے کے رستے سے آسمانی بادشاہت میں داخل ہوتا ہے اسی کو وسیلہ کہتے ہیں۔(تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۱-۴۱۲) ایسے عقیدہ رکھنے والے پر نعوذ باللہ من ذلک یہ الزام کہ وہ مقابل کی کسی نبوت کا دعویدار ہے سراسر جھوٹ ہے سر سے پاؤں تک جھوٹ ہے۔جہاں جھوٹ کے معاملہ میں کوئی عار باقی نہ رہ گئی ہو تو پھر ٹھیک ہے جو چاہو کہتے چلے جاؤ مگر حقائق کو تو جھوٹ نہیں بدلا کرتے۔یہ کہنے کے بعد پھر آخری بات یہ فرمائی گئی ہے اس بیان میں جو صدر پاکستان کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ ہم تو یہ برداشت نہیں کر سکتے اس لئے اب تمہارے لئے دو ہی رستے ہیں یا تو ملک چھوڑ جاؤ اور یا پھر سیدھی طرح کلمہ پڑھ کر مسلمان بن جاؤ تو ہم تمہیں چھاتی سے لگالیں گے۔کوئی ایک بھی کل اس بیان کی سیدھی نہیں۔ہم ایک محاورہ سنا کرتے تھے اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل