خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 733 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 733

خطبات طاہر جلد۳ 733 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء قتل و غارت شروع کر دیں ،کبھی بلوچستان میں کبھی پنجاب کی گلیوں میں خون بہائیں۔یہ پھر ان کے لئے لائحہ عمل بڑا کھلا کھلا آپ نے پیش کر دیا لیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے یہ محض فساد پھیلانے والی باتیں اس سے زیادہ کوئی ان میں کوئی حقیقت نہیں اس لئے نہ خود عمل کریں گے اس پر نہ ان کی اولا داس پر عمل کرے گی اور وہ غیرت کے تقاضے جو خود پیش کر رہے ہیں ان پر اپنے بچے پورے نہیں اتریں گے کبھی ، میں چیلنج کرتا ہوں کر کے دکھا ئیں۔سر سے پاؤں تک سارا جھوٹ ہی جھوٹ ہے کوئی حیا نہیں رہی کہ وقت کے امام کے متعلق جس کو خدا نے اپنے ہاتھوں سے قائم کیا ہے اس کے متعلق زبانیں کھلتی چل جارہی ہیں اور کوئی کنارہ نہیں ہے ان کی بے حیائی کا۔جماعت احمد یہ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک والی رکھتی ہے، ایک ولی رکھتی ہے۔جماعت احمدیہ کا ایک مولا ہے اور زمین و آسمان کا خدا ہمارا مولا ہے لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تمہارا کوئی مولا نہیں۔خدا کی قسم جب ہمارا مولا ہماری مدد کو آئے گا تو کوئی تمہاری مدد نہیں کر سکے گا۔خدا کی تقدیر جب تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کرے گی تو تمہارے نام ونشان مٹادیئے جائیں گے اور ہمیشہ دنیا تمہیں ذلت اور رسوائی کے ساتھ یاد کرے گی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عاشق محمد مصطفی ﷺ کا نام ہمیشہ روز بروز زیادہ سے زیادہ عزت اور محبت اور عشق کے ساتھ یاد کیا جایا کرے گا۔عجیب و غریب بہانے بنائے گئے ہیں۔ہم کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ایک جھوٹا نبی، ایک جھوٹا دعویدار ، ایک مفتری نعوذ باللہ من ذلک حضرت محمد مصطفی ﷺ کے مقابل پر نبوت کا اعلان کر دے۔جو شعر میں نے ابھی آپ کو پڑھ کر سنائے ہیں جو نظم ونثر اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جو ہزار ہا صفحات پر مشتمل ہے اس کو کوئی پڑھ کر وہم وگمان بھی نہیں کر سکتا اس ذات کے متعلق ایسا نا پاک حملہ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ بالمقابل ایک نبوت کا دعوی کیا ہے۔آپ نے تو وہی دعوی کیا ہے جو تمہارا اپنا بھی ایمان ہے کہ ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔آپ کا تو یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ امام مہدی ہوں جس کو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانہ میں بھیجا گیا ہے اور امام مهدی از خود تو نہیں بن جایا کرتے نہ لوگوں کے کہنے سے تو کوئی امام مہدی نہیں بن جایا کرتا ہے۔امام تو ہوتا ہی وہی ہے جس کو خدا کھڑا کرے، جسے خدا خود مقرر فرمائے ، جس کو الہام نازل کرے کہ میں تجھے زمانہ کا امام مقرر کرتا ہوں۔اگر وہ نہیں ہے تو دوسرے اماموں کے منہ پر تھوکتا بھی کوئی نہیں، دو