خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 735
خطبات طاہر جلد ۳ 735 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء سیدھی! لیکن یہ محاورہ ہی تھا ہم نے تو ہر چیز پر غور کیا کوئی نہ کوئی سیدھی کل نظر آجایا کرتی تھی یعنی یہ بیان آج ایسا میری نظر سے گزرا ہے کہ اس کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں۔ملک سے نکل جاؤ ، ملک کوئی لوگوں کے باپوں کی جاگیریں تو نہیں ہوا کرتی ، ملک تو قوم کا اجتماعی سرمایہ ہوتا ہے۔ملک سے کون کسی کو کیسے نکال سکتا ہے؟ پاکستان ان پاکستانی احمدیوں کا وطن ہے جنہوں نے پاکستان کے لئے قربانیاں دیں، جن کے آباؤ اجداد نے قربانیاں دیں، جو آج بھی جب پاکستان کو خطرات درپیش ہوتے ہیں صف اول کے مجاہدین بنتے ہیں۔کوئی ایک بھی احمدی نہیں ہوتا جو غداری کر جائے ملک سے، ان کے متعلق یہ کہا جارہا ہے کہ وطن چھوڑ جائیں تم لگتے کیا ہو اس ملک کے جو وطن چھوڑ جائیں، کوئی حیثیت اپنی ثابت کرو۔بتاؤ کہ تمہیں کس طرح یہ ملک جا گیر یا ورثے میں ملا تھا کہ اہل وطن کو وطن سے نکالنے کا حق رکھتے ہو؟ اگر وطن سے نکالنے کا کسی کے متعلق کوئی حق ہے کسی کو تو پھر ان لوگوں کو نکالنا چاہئے جو پاکستان کی پ“ بھی بنانے نہیں دینا چاہتے تھے، جو قائداعظم کو کافر اعظم کہتے تھے ، جو یہ کہا کرتے تھے کہ کسی ماں نے وہ بچہ نہیں جنا جو پاکستان بنا کے دکھائے یا پاکستان کی پ“ بھی بنا کے دکھائے۔جو یہ کہا کرتے تھے جو بھی بنے گا پلیدستان بنے گا پاکستان نہیں بنے گا۔جو ہندو کانگرس کی غلامی پر فخر کیا کرتے تھے اور یہ اعلان کیا کرتے تھے کہ مسلمان کا صرف اتنا کام ہے کہ سیاست میں قربانی دے اور پھر جو کچھ حاصل کرے، جو ملک اس کے نتیجہ میں ہاتھ میں آئے وہ ہندو اکثریت کے حضور پیش کر دے اور یہی اس کا کام ہے اور پھر وہ اللہ اللہ میں مصروف ہو جائے۔یہ وہ چیلے چانٹے تھے ہندو کانگرس کے ، یہ ان کے نصب العین تھے، ان کا تو حق ہے کہ اس وطن میں آکر ٹھہریں جس کو احمدیوں نے اپنا خون دے کر بنایا اور احمدی کا حق نہیں ہے کہ اس وطن میں رہے؟ کوئی کچھ تو عقل کا پاس ہونا چاہئے۔اتنا تو نہیں کہ کلیۂ عقل کو ایسی چھٹی دے دی جائے کہ قریب بھی نہ پھٹکنے دیا جائے ، ہر بات کو الٹ دیا جائے۔اب یہ احمدیوں کو کہا جارہا ہے کہ وطن چھوڑ دو اور پھر اگلی بات ورنہ کلمہ پڑھ لو۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ کلمہ پڑھنے کے نتیجے میں تو مارے جارہے ہیں ابھی تک بے چارے اس جرم میں تو وہ سزائیں دیئے جار ہے ہیں کہ کلمہ کیوں پڑھتے ہیں؟ اسی جرم کی پاداش میں جیلیں بھر رہے ہو تم کہ احمدی کلمہ کیوں پڑھتے ہیں اور سیاہیاں پھر وار ہے ہو۔یہ وہ اسلامی حکومت ہے جو اسلام کے نام پر قائم کئی گئی تھی اور اب اسلام ہی کے نام پر کلے مٹانے پر لگی ہوئی ہے۔ہر ڈاک میں ایسی