خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 712
خطبات طاہر جلد ۳ 712 خطبہ جمعہ ۷ / دسمبر ۱۹۸۴ء میں رہتی تھی وہ زمین پر اتر آئی اور وہ دن تھے جب برصغیر میں مسلمان ایک ملت واحدہ کے طور پر ابھرے تھے۔اسی کلمہ کی برکت نے پاکستان کو بنایا اور وہ علماء جو اسلام کے نام پر پاکستان کی مخالفت کرتے تھے کلمہ نے ان کی طاقتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور وہ عظیم الشان عوام کے پلیٹ فارم جن پر کھڑے ہو کر وہ قائد اعظم اور پاکستان کو گالیاں دیتے تھے ، وہ پلیٹ فارم جن کو وہ مضبوط اور طاقتور سمجھتے تھے ، وہ ان کے پاؤں کے نیچے سے ایک بہتی ہوئی ریت کی طرح نکل گئے اور تمام امت مسلمہ کلمہ کے نام پر قائد اعظم کے گرد اکٹھی ہوگئی۔وہ شہدا جنہوں نے جانیں دیں اس ملک کے لئے ، ان کے وہم و گمان میں اور ان کے تصور میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ ایسا بد قسمت زمانہ بھی ظاہر ہونے والا ہے، ایسے بد بخت دن بھی اس پاک وطن کو دیکھنے ہوں گے کہ اسلام کے نام پر ایک حکومت کے کارندے مجسٹریٹ کیا اور پولیس کے سپاہی کیا، حوالدار کیا اور تھانیدار کیا، یہ سارے بالٹیوں میں سیاہیاں بھرے ہوئے ، ہاتھوں میں برش پکڑے ہوئے کلمہ مٹانے کے لئے نکل رہے ہوں گے اور ان کے ساتھ مولویوں کا ایک ٹولہ ہوگا ، کچھ اُن کے چیلے چانٹے ہوں گے اور وہ یہ نعرے لگا رہے ہوں گے کہ ہم کلمہ مٹانے جائیں گے ، ہم کلمہ مٹا کر چھوڑیں گے ، ہم گنبد گرانے جائیں گے ہم گنبد گرا کر چھوڑیں گے ، ہم قبلہ بدلانے جائیں گے ہم قبلہ بدلا کر چھوڑیں گے۔یہ بد بخت دن بھی پاکستان کو دیکھنے نصیب ہونے تھے اور یہ کوئی فرضی قصہ نہیں جو میں آپ کو بتارہا ہوں یہ نعرے واقعتہ بہت سی دیوبندی مسجدوں سے بلند ہوئے اور یہ پھیلتے چلے جارہے ہیں، ان کے جلسوں میں بھی یہ نعرے بلند ہورہے ہیں ، ان کی نجی محفلوں میں بھی یہی باتیں ہورہی ہیں کہ یہ وہ نعرے ہیں جو عوام کے دل کو پکڑ لیں گے ، ان نعروں کی برکت اور ان نعروں کی قوت سے تم باطل کو مٹا دو گے یعنی باطل کیا کلمہ توحید اشهد ان لا اله الا الله و اشهدان محمدارسول اللہ اب یہ ان کی نگاہ میں باطل بن چکا ہے اور مٹانے والے جہاد کا تصور لے کر مٹانے کے لئے نکل رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم سروں پر کفن باندھ کر نکلیں گے اور کوئی دنیا کی طاقت ہمارے ہاتھ روک نہیں سکے گی ، کوئی دنیا کی قوت ہمارے قدم نہیں تھام سکے گی ، ہم جائیں گے اور احمدیوں کو قتل و غارت کرتے ہوئے پاکستان کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہا دیں گے اور ان کی مسجدوں کے رخ پلٹا دیں