خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 711
خطبات طاہر جلد ۳ 711 خطبہ جمعہ ۷ / دسمبر ۱۹۸۴ء اور اس کی بنا پر ساری دشمنی کا سلوک انہوں نے کیا تب بھی حضرت اقدس محمدﷺ نے ان نفرتوں کو بھلا کر اس قدر مشترک کی طرف قوم کو بلایا۔آج میں جن سے مخاطب ہوں وہ کلمہ کے دونوں جزو پر ایمان رکھتے ہیں۔وہ اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ اور اس بات کا بھی دعوی کرتے ہیں کہ محمد عبده و رسولہ اور اس کے باوجود کلمہ کے ان دونوں اجزا کی وجہ سے محبت کی بجائے دشمنی کا بیج بور ہے ہیں اور نفرتیں پھیلا رہے ہیں اور آج یہ غلامان مصطفی ہونے کے دعوے دار، یہ محبت خدا ہونے کے دعوے دار کلمہ کے پہلے جزو کو بھی اس نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور دوسرے جز و کو بھی اس نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کہ احمدیوں کے درودیوار پر ، ان کی مساجد پر ، ان کے محراب و منبر پر جہاں بھی کلمہ ان کو لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے ان کے دل نفرت اور غیظ وغضب سے بھڑک اٹھتے ہیں ، یہ عجیب دور ہے! کلمہ ہے کیا ؟ کلمہ تو عبدیت اور الوھیت کے کامل اتصال کا نام ہے۔کلمہ تو حضرت اقدس محمد مصطفی علے کے اس معراج کا مظہر ہے جس نے بندہ کو خدا سے ملا دیا تھا اور جس سے اوپر وصل کا کوئی مقام نہیں ہے، کلمہ تو وہ نور ہے جو تاریکیوں کو روشن کرتا ہے، کلمہ تو وہ آب حیات ہے جس سے مردہ دل زندگی پاتے ہیں اور جس سے زندوں کو ایک ایسی لازوال حیات نصیب ہوتی ہے کہ جو موت کے نام سے نا آشنا ہو۔وہ کلمہ ہی ہے جو آسمان کو بھی روشن کئے ہوئے ہے اور زمین کو بھی روشن کئے ہوئے ہے۔یہی وہ کلمہ تھا جو پاکستان کی تعمیر کا موجب بنا، یہی وہ کلمہ تھا جس کی بنا پر اس زمانہ میں جب کہ پاکستان کی تعمیر خطرہ میں تھی ، کیا سنی اور کیا غیر سنی ، کیا شیعہ، کیا بریلوی اور کیا غیر بریلوی اور کیا احمدی تمام اس کلمہ کی حفاظت کے لئے اس کلمہ کی خاطر ایک وطن قائم کرنے کے لئے دل و جان کے ساتھ ایک جہاد میں مصروف تھے اور اس جہاد کی صف اول میں احمدی اسی طرح شامل تھے جس طرح دیگر فدایان کلمہ تو حید شامل تھے۔لاکھوں جانیں قربان ہوئیں اس جدوجہد میں ، اتنا خون بہا کہ جو اگر دریاؤں میں بہتا تو دریاؤں کو سرخ کر دیتا، ان گنت بچے یتیم بنائے گئے ، ان گنت عورتوں کے سہاگ لئے لیکن قوم نے کلمہ توحید کونہیں چھوڑا اور یہ اس کلمہ توحید کی برکت تھی کہ وہ تو حید جو بھی آسمان