خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 713

خطبات طاہر جلد ۳ 713 خطبہ جمعہ ۷ / دسمبر ۱۹۸۴ء گے، قبلہ بدلا دیں گے، کلمہ کو مٹادیں گے اور وہ گنبد جو مسجد کی تصویر لئے ہوئے آسمان سے توحید کی باتیں کرتے ہیں ان گنبدوں کو ہم گرا دیں گے۔عجیب یہ زمانہ پلٹا ہے کہ پہلے وقت کے انسان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی۔ایک وہ وقت تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرتدین سے اور باغیوں سے لڑائی میں مصروف تھے اور شدید بد ارادوں کے ساتھ عرب میں ایک نہایت ہی خوفناک بغاوت اسلام کے خلاف رونما ہو چکی تھی۔قبائل میں اتنا جوش پیدا کر دیا گیا تھا کہ فوج در فوج لوگ مدینہ کو گھیر رہے تھے اور اسلام کا نام مٹانے کے لئے تیار کھڑے تھے۔ایسے شدید اور خوف ناک وقت میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مجاہدین کو یہ ہدایت دی کہ اگر تمہیں خدا فتح نصیب کرے اور یقینا تمہیں خدا فتح نصیب کرے گا تو جو لوگ محمد مصطفی ﷺ کے قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں ان کو کچھ نہیں کہنا، جو ہماری نماز ادا کرتے ہیں ان کو کچھ نہیں کہنا ، جو ہماری زکوۃ ادا کرتے ہیں ان کو کچھ نہیں کہنا اور کجا یہ اعلان آج حضرت ابوبکر صدیق کا نام لے کر کیا جارہا ہے اور انہیں کے حوالے سے کیا جا رہا ہے کہ جو اس قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں ان کی گردنیں کاٹ دو جب تک کہ وہ قبلہ نہ بدل دیں اور جو اسلامی نماز ادا کرتے ہیں ان کو مار مار کر ہلاک کر دو جب تک کہ وہ اس نماز کو ادا کرنا نہ چھوڑ دیں جو محد مصطفی ﷺ کی نماز ہے اور جو اسلامی زکوۃ دیتے ہیں ان کی زکوۃ ان کے منہ پر مارو اور وہ ہاتھ کاٹ دو جن سے وہ زکوۃ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ایک ہی اعلان ہیں دونوں، جب قوم پاگل ہو جایا کرتی ہے تو کچھ ہوش نہیں رہتی وہ کہہ کیا رہی ہے آمْ عَلَى قُلُوبِ اقْفَالُهَا (محمد: ۴۵) کا منظر ہے، یہ تدبر نہیں کرتے قرآن پر یا پھر ان کے دلوں پر تالے پڑ چکے ہیں۔ایک ایسی ہی کیفیت سے آج بدقسمت پاکستان گزر رہا ہے جہاں کے علما کا ایک طبقہ بھی حکومت کی سر براہی اور حکومت کے سائے تلے یہ ظالمانہ حرکتیں کرتا چلا جارہا ہے اور کوئی نہیں جو ان کے ہاتھ روکے اور کوئی نہیں جو ان کو عقل دے کہ دیکھو! تم اپنی ہلاکت کے سامان مت پیدا کرو، کلمہ مٹانے والوں کو خدا کی تقدیر ہمیشہ مٹادیا کرتی ہے لیکن وہ دن بدن بجائے غور کرنے کے، بجائے سمجھنے کے بجائے تنبیہات کو سن کر ان پر عمل کرنے کے وہ جسارت میں بڑھتے جارہے ہیں۔ان کے نعرے نہایت ہی ظالمانہ اور خوفناک نعرے بن چکے ہیں جن کا اسلام سے کوئی دور کا تعلق بھی باقی نہیں رہا اور