خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 710 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 710

خطبات طاہر جلد۳ 710 خطبہ جمعہ ۷ / دسمبر ۱۹۸۴ء نفرتوں کے بیج بوئے ، اس قدر اشتراک کی طرف نظر دوڑائے جو مختلف قوموں کے درمیان اختلافات کے باوجود موجود رہتی ہے اور اس کے ذریعہ محبت کے بندھن استوار کرے۔یہ روح ہے اس آیت کریمہ کی جس کی روشنی میں حضرت اقدس محمد مصطفی علی اللہ نے ان اہل کتاب کو یہ دعوت دی جو آپ کو جھوٹا سمجھتے تھے ، ان اہل کتاب کو یہ دعوت دی جو آپ کی تکذیب میں فخر کرتے تھے، ان اہل کتاب کو یہ دعوت دی جنہوں نے آپ کی دشمنی میں کوئی بھی ذریعہ ایسا نہ چھوڑا جس سے آپ کو یا آپ کے ماننے والوں کو ہلاک کیا جاسکتا ہو اور انہوں نے اختیار نہ کیا ہو۔نفرتیں پھیلائیں،شعروں میں ہجو کہی اور سارے عرب میں اس ہجو کو مشتہر کیا، گندے اور جھوٹے ناپاک الزامات لگائے، ساحر کہا، کبھی مسحور کہا، کبھی جادوگر بتایا، کبھی وہ جس کے جادو کے اثر سے حواس مختل ہو چکے ہوں، کبھی عاشق قرار دیا، کبھی مجنون، کبھی شاعر ٹھہرایا، کبھی محمد مصطفی ﷺ کے پاک نام کو بدل کر مذمم کہنا شروع کر دیا۔ہر قسم کے چر کے جو زبانیں لگاسکتی تھیں وہ بھی آپ پر لگائے اور ہر قسم کے زخم جو تلوار میں لگا سکتی تھیں وہ بھی آپ کے بدن پر لگائے اور ہر وہ وار جو نیزے سینہ پر کرتے ہیں اور سینوں کو چھلنی کر دیا کرتے ہیں وہ وار بھی آپ کے سینوں پر چلائے گئے۔کوئی دکھ کی کوئی قسم انسان ایسی سوچ نہیں سکتا جو آپ کو دی نہ گئی اور بظاہر یوں معلوم ہوتا کہ پھر اس کے بعد قدر اشتراک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب دو قو میں ہمیشہ کے لئے پھٹ چکی ہیں اور ان کے ایک مقام پر اکٹھے ہونے کی کوئی سبیل نہیں رہی۔ایسی نفرتوں کے معراج کے وقت ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی اللہ نے یہ انسانیت کا عظیم الشان پیغام اور درس قوموں کو دیا: قُل يَاَهْلَ الْكِتَب تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اب بھی یہ قدر اشتراک ہمارے درمیان موجود ہے تم مجھے جھوٹا بھی کہو تو اپنے خدا کو تو جھوٹا نہیں سمجھتے ، اس کی محبت کے تو دعویدار ہو پس اگر تم خدا کی محبت کے دعوے میں سچے ہو تو پھر آؤ اسی کلمہ پر ہم اتحاد کر لیتے ہیں اور یہ مشترک اعلان کرتے ہیں کہ آج کے بعد ہم کسی غیر کی عبادت نہیں کریں گے اور اپنے رب کے سوا کسی کو معبود نہیں ٹھہرائیں گے۔یہ نصف کلمہ تھا اور باوجود اس کے کہ دوسرے نصف حصہ پر وہ ایمان نہیں رکھتے تھے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ پر ان کا قطعاً کوئی ایمان نہیں تھا