خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 688
خطبات طاہر جلد ۳ 688 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۸۴ کلام ہے کہ کوئی اس کی نظیر دوسری جگہ آپ کو نظر نہیں آئے گی۔بظاہر یہ ایک بہت ہی اچھا منظر ہے کہ جماعت احمدیہ کے منہ سے پاک کلمات نکل رہے ہیں، دعائیں بلند ہورہی ہیں اور نیک ارادے ہیں۔بہت ہی خوشکن منظر ہے لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ کافی نہیں کچھ اور بھی چاہئے ، تمہارے پاس بہت بڑی طاقت موجود ہے اس طاقت سے تمہاری جو مشینری حرکت میں آنی چاہئے اس کا ایک بہت بڑا حصہ بعض دفعہ خاموش پڑا رہ جاتا ہے، تم اس کو حرکت میں نہیں لاتے۔چنانچہ اسی کی طرف توجہ دلا رہا ہے اس آیت کریمہ میں جو میں نے تلاوت کی ہے: مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا (فاطر (1) جو کوئی بھی عزت کی تمنا رکھتا ہے وہ سنے کہ للهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ہر قسم کی تمام تر عزتیں اللہ ہی کے پاس ہیں اس لئے عزتوں کے لئے خدا کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔جب دنیا ذلیل کر رہی ہو تو اور زیادہ توجہ اس کی طرف مبذول ہونی چاہئے کہ عزتیں خدا کے ہاتھ میں ہیں وہ جسے چاہے عزت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے لیکن خدا کے ہاں عزت پانے کا طریق کیا ہے ؟ فرمایا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ تمہارے جو پاک کلمات ہیں نیک ارادے، نیک تمنائیں ،حمد اور تسبیح ، دعا ئیں اور عبادتیں یہ ساری چیزیں خدا کی طرف حرکت کرتی ہیں اور آسمان کی طرف بلندی کی طرف اٹھتی ہیں۔چنانچہ اس منظر کو ہم دیکھ رہے ہیں یہی ہورہا ہے لیکن فرماتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لینا کہ محض جذبات کے نتیجہ میں براہ راست دل سے اٹھنے والی دعائیں براہ راست اٹھنے والے خیالات جو کسی انسانی عمل میں سے گزر کر نہیں جاتے وہ اتنے بلند ہو سکتے ہیں کہ خدا تک پہنچ جائیں۔اس جذبات کے پانی کو اپنے اعمال کی مشین میں سے گزار و پھر وہ طاقت پیدا ہوگی جس کے نتیجہ میں تمہاری باتیں آسمان تک پہنچا کریں گی کیونکہ بلندی کی طرف چڑھنا بغیر توانائی کے ممکن نہیں ہے۔کسی دنیا کی کتاب میں آپ ایسا کلام، اس کا ادنی سا نمونہ بھی نہیں دیکھ سکتے جیسا کہ قرآن کریم میں ہمیں جگہ جگہ