خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 687 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 687

خطبات طاہر جلد ۳ 687 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۸۴ چھوڑ دو بھاگ جاؤ، دنیا کو قطع کر دو، دنیا سے قطع تعلقی اختیار کر لو اور الگ ہوکر موت کا انتظار کرو۔اس فکر کے پیچھے بھی ایک جذبہ ہے۔غرضیکہ جذبات اور عقل کا تعلق بالکل وہی ہے جیسے مشین کا اس توانائی سے ہو جس کے بغیر وہ مشین چل نہیں سکتی۔قرآن کریم بھی ہر جگہ جذبات سے کام لیتا ہے۔کہیں جذبات کو ابھارتا ہے کہیں ان کو مناسبت عطا کرتا ہے ، ان کو توازن بخشتا ہے اور جس طرح ایک سائنٹسٹ (Scientist) توانائی سے کام لے رہا ہوتا ہے اس سے بہت زیادہ عقل اور فراست کے ساتھ قرآن کریم انسانی توانائی کو توازن بخشتے ہوئے ان کو کارآمد چیزوں پر لگا تا ہے۔یہ زمانہ جس میں سے ہم گزررہے ہیں یہ اس لحاظ سے ایک بہت ہی خوش نصیبی کا زمانہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے اوپر جو حالات وارد ہوئے انہوں نے جذبات میں ایک طوفان برپا کر دیا ہے۔وہ تمام محرکات جو جذبات کو انگیخت کرتے ہیں وہ سارے موجود ہیں۔دوسروں کی نفرتیں جو مومنوں کے دل پر قیامت ڈھاتی ہیں اس کے نتیجہ میں بھی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔دوسروں کے غصے خواہ وہ عمل کی شکل میں ہوں یا گالی گلوچ کی شکل میں ہوں وہ بھی چر کے لگاتے ہیں اور تکلیف پہنچاتے ہیں اس کے نتیجہ میں بھی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔دوسروں کے بلند بانگ دعاوی کہ ہم تمہیں ہلاک کر دیں گے، تباہ کر دیں گے، تمہارا کچھ نہیں چھوڑیں گے ، وہ ایک قسم کا خوف پیدا کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بھی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ان جذبات کا کچھ اظہار تو ہم دیکھ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان جذبات کے نتیجہ میں جو جماعت احمدیہ کے پاس اس وقت ایک طوفان کی شکل میں موجود ہیں، احمدی بے ہودہ حرکتیں نہیں کر رہے ، گالی گلوچ میں حصہ لے کر اپنے جذبات کو ضائع نہیں کر رہے ، نفرتیں کر کے خود اپنے آپ کو اپنے دل کو اور اپنے اندرونوں کو جلا نہیں رہے بلکہ ہر طرف خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا یہ ردعمل ہے کہ راتوں کو اٹھتی ہے اور خدا کے حضور گریہ وزاری کرتی ہے۔جو نمازی نہیں بھی تھے وہ بھی نمازی بن رہے ہیں ، جن کو عبادت کا سلیقہ نہیں تھا انہوں نے سلیقے سیکھ لئے، جن کو لذت نہیں آیا کرتی تھی دعاؤں میں ان کو اللہ تعالیٰ نے دعاؤں کی لذتیں بخش دیں لیکن صرف یہی کافی نہیں۔قرآن کریم صرف اچھے خیالات یا اچھے کلمات پر بات کو نہیں چھوڑ تا بلکہ اس سے زیادہ استفادہ کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ایک ایسی عظیم الشان روحانی سائنس کا