خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 689
خطبات طاہر جلد ۳ 689 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۸۴ نظر آتا ہے۔فرما تا ہے بہت اچھی بات ہے تم دعائیں کرتے ہو تم تسبیح کرتے ہو، تم تحمید کرتے ہو اور اللہ کا ذکر کر نے لگ گئے ، خدا کے حضور رونے لگ گئے ، دعائیں کرنے لگ گئے لیکن فرمایا کہ یہ نہ گمان کر لینا کہ یہ سیدھی چیزیں آرام سے اوپر پہنچ جائیں گی اور خدا کے عرش کو ہلا دیں گی۔فرمایا وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ عمل صالح ضروری ہے ان کو بلندی عطا کرنے کے لئے وہ توانائی جو عمل صالح مہیا کرتا ہے اس کی طاقت سے پاک کلام اوپر چڑھا کرتا ہے ورنہ اس میں اوپر چڑھنے کی طاقت کوئی نہیں ہوگی۔مشین تو ایک بن جائے گی لیکن توانائی کے بغیر حرکت میں نہیں آئے گی۔کیسا عظیم کلام ہے! کتنا گہرا فلسفہ ایک چھوٹی سی آیت میں بیان فرما دیا۔چنانچہ اس وقت جماعت کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ ان جذبات کو اس طرح کام میں لائیں اور اس میں ایک اور بڑا گہرا فلسفہ ہے۔بہت سے لوگ بہت ہی گریہ وزاری سے دعائیں کرتے ہیں اور روتے ہیں کہ اے خدا! ہماری دعا قبول کر ہمارا دکھ دور کر دے اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ خدا نے نہیں سنا۔اللہ نے تو بتا دیا تھا کہ میں وہی سنوں گا جو مجھ تک پہنچے گا اور مجھ تک وہی پہنچے گا جس کے پیچھے تمہارے نیک اعمال اس کو قوت بخش رہے ہوں اس کے بغیر میرے آسمان تک تمہاری کوئی صدا نہیں پہنچے گی۔چنانچہ اس بات پر غور کرتے ہوئے ایک اور پہلو بڑا لطیف اس آیت میں سامنے آتا ہے کہ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ میں تو کلم جمع کا صیغہ استعمال فرمایا کہ پاک کلام کثرت جو انسان کے دل سے اٹھتے ہیں، خیالات یا کلام منہ سے نکلتا ہے یہ سارے کے سارے ایک جمع کی شکل میں بیان فرمائے۔نیک تمنائیں، دعائیں، نیک جذبات، یہ ساری چیزیں اللہ تک پہنچتی ہیں۔وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُه میں واحد کا صیغہ استعمال فرمایا کہ نیک اعمال یا نیک عمل اس کو اوپر چڑھاتا ہے۔پہلے جمع کی بات ہو رہی تھی یہ واحد کہاں سے آگیا بیچ میں؟ چنانچہ بعض لوگوں نے اس