خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 686
خطبات طاہر جلد ۳ 686 خطبه جمعه ۲۳ / نومبر ۱۹۸۴ طمع رونما ہوتی ہے اور امید رونما ہوتی ہے اور امید کے پھر نتائج پیدا ہوتے ہیں اس کو پھل لگتے ہیں۔یہ معاملہ ہے خدا کے مومن بندوں کا اور دوسری طرف وہ جو کمزور ہیں ان کے متعلق فرمایا کہ ان کو سامنے موت نظر آنے لگ جاتی ہے اور ان کی آنکھیں پھر جاتی ہے۔تو یہ ضروری ہے کہ انسانی اعمال اور انسانی تنظکرات کی حرکت کے لئے کوئی نہ کوئی جذبہ کار فرما ہو۔یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ جذبات کی کوئی قیمت نہیں عقل چاہئے صرف یہ عقل کے بغیر انسان ایسی بات کر سکتا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ عقل تو ایک مشین ہے ایک موٹر کی طرح ، ایک گھڑی کی طرح، ایک ریڈیو کی طرح، اس سے زیادہ عقل کی کوئی حیثیت نہیں۔اس مشین کو توانائی جذبات مہیا کرتے ہیں۔اگر انسانی زندگی سے جذبات کو آپ نکال لیں تو بالکل Stand Still ہو جائے گی ،ایک مقام پر آکر جامد ہو جائے گی۔جتنے بھی بڑے بڑے مفکرین ہیں خواہ وہ فلسفوں اور نظریوں کے موجد تھے یا انہوں نے سائنس کی دنیا میں ایجادات کیں، ان کی ہر ایجاد سے پہلے ایک غم ، ایک فکر ، ایک بے چینی تھی جس نے ان کو مجبور کیا ہے۔ایک شخص ایک تکلیف کی حالت سے گزرا ہے تو اس کا رد عمل ہوا ہے اگر وہ سائنسدان تھا تو اس نے اس تکلیف کی حالت کو دور کرنے کے لئے سوچنا شروع کیا کہ میں کیسے اپنے اور اپنے بھائیوں کے فائدہ کیلئے کوئی ایسی چیز ایجاد کروں کہ اس سے یہ تکلیف رفع ہو جائے۔ایک مفکر تھا تو اس نے یہ سوچنا شروع کیا کہ انسانی معاملات میں یہ وجوہات ایسی ہیں جو غم پیدا کرتی ہیں، دکھ پیدا کرتی ہیں، یہ نظام ناقص ہے اس کی تبدیلی ہونی چاہئے اور وہ ذاتی صدمہ جو اس کو کسی سے پہنچا تھا ، وہ ٹھوکر جو اس کے جذبات کو لگی تھی اس نے اس کے دماغ کو حرکت دی اور وہ ایک نظریہ لے کر دنیا کے سامنے آیا۔غرضیکہ ہر انسانی فکر کے پیچھے کوئی نہ کوئی جذبہ کار فرما آپ کو نظر آئے گا۔وہی جذ بہ برعکس نتیجے بھی پیدا کر دیتا ہے بجائے اس کے کہ ایجاد کی طرف توجہ مائل ہوا ایک غم جو ہے مایوسی کی طرف اور دنیا سے پیچھے ہٹ کر دنیا سے بھاگنے کی طرف انسان کو مجبور کر دیتا ہے، کا ہلی اور سستی پیدا کر دیتا ہے، انسان نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔اسی طرح تفکرات کی دنیا میں بھی تفکرات منفی بھی پیدا ہو جاتے ہیں بعض جذبوں سے کئی ایسے نظریے آپ کو نظر آئیں گے جن میں Escapism نظر آئے گا کہ