خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 683
خطبات طاہر جلد ۳ 683 خطبه جمعه ۲۳ / نومبر ۱۹۸۴ نیک خیالات کے مطابق اپنے اعمال نیک بنا ئیں (خطبه جمعه فرموده ۲۳ نومبر ۱۹۸۴ء بمقام مسجد فضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی: مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِيْنَ يَمْكُرُونَ السَّيَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُولَبِكَ هُوَ يَبُوْرُ (فاطر: ۱۱) اور پھر فرمایا: جیسے مادی دنیا میں ہر حرکت کیلئے ایک توانائی کی ضرورت ہوتی ہے ویسا ہی حال انسانی معاملات کا ہے اور ہر انسانی حرکت کے لئے خواہ وہ جسم کی ہو یا تصورات کی ہو کسی نہ کسی توانائی کے ذخیرہ کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور بعینہ یہی عالم روحانی دنیا کا بھی ہے۔روحانی دنیا میں بھی کسی توانائی کے ذخیرہ کی ضرورت پڑتی ہے۔مادی دنیا میں خواہ کیسی ہی طاقتور اور عمدہ اور کارآمد مشین بنائی گئی ہو یا نہایت ہی بڑا اعلیٰ پیمانے کا کارخانہ تیار کر دیا گیا ہو اگر توانائی آپ اس سے کھینچ لیں تو وہ ساری محنت، ساری کوشش، ساری صناعی بے کار چلی جائے گی۔اسی طرح انسانی معاملات میں بھی کئی قسم کے توانائی کے ذخیرے ہیں جن کو استعمال کر کے انسانی معاملات حرکت میں لائے جاتے ہیں۔محبت بھی اس میں اثر انداز ہوتی ہے اور نفرت بھی اثر انداز ہوتی ہے۔غصہ بھی اثر انداز ہوتا ہے اور رحم بھی اثر