خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 684 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 684

خطبات طاہر جلد ۳ 684 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۸۴ انداز ہوتا ہے۔بشاشت کا بھی انسانی اعمال اور انسانی تصورات کی حرکت پر اثر پڑتا ہے اور پژمردگی کا بھی انسانی اعمال اور انسانی تصورات پر اثر پڑتا ہے۔غرضیکہ آپ انسانی معاملات کی کنہ تک پہنچ کر دیکھیں تو ایک بھی ایسا انسانی تصور یا انسانی فعل نہیں جو حرکت میں آیا ہو اور اس کے پیچھے کوئی جذ بہ کار فرمانہ ہومگر جذبات کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ دونوں طرح سے استعمال ہو سکتے ہیں اور یہی حال توانائی کے ہر دوسرے ذخیرہ کا ہے۔دریا کا پانی ایک توانائی ہے جو بہہ رہا ہے۔اگر عقل مند ہوشیار تو میں اس کو قابو کر کے مسخر کر کے بجلی بنانے کے کام میں نہ لائیں یا نہریں چلا کر زمینوں کی آبیاری کے کام میں نہ لائیں تو وہی پانی بعض دفعہ سیلاب بن کر امڈتا ہے اور دور دراز تک کے علاقوں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے، زندگی کی بجائے موت کا پیغام بکھیر دیتا ہے تو توانائی فی ذاتہ اگر چہ ضروری ہے اور اس کے بغیر کوئی انسانی عمل یا تفکرات حرکت میں نہیں آ سکتے مگر کس رنگ میں وہ حرکت میں آئیں گے؟ اس توانائی کا کیا اثر انسانی زندگی پر رونما ہو گا ؟ یہ ہے وہ بنیادی مسئلہ جو غور طلب ہونا چاہئے۔قرآن کریم نے اس کے ہر قسم کے اثرات کا مختلف آیات میں ذکر کیا ہے چنانچہ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں خوف کا بھی انسانی زندگی پر اثر پڑتا ہے اور طمع کا بھی انسانی زندگی پر اثر پڑتا ہے۔بعض اوقات خوف کے نتیجہ میں لوگ پژمردہ ہو کر ہمتیں ہار دیا کرتے ہیں اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، بعض دفعہ خوف کی زیادتی لوگوں کے ایمان کو متزلزل کر دیتی ہے اور بعض دفعہ خوف کے نتیجہ میں مایوس ہونے کی بجائے ان کی امیدیں اور بڑھ جاتی ہیں تو صرف توانائی فی ذاتہ کافی نہیں اہم تر مسئلہ یہ ہے کہ اس توانائی کو کیسے استعمال کیا جائے اور کیا اثرات اس کے مترتب ہوں؟ چنانچہ قرآن کریم ان دونوں قسم کی توانائی کی کیفیات کا مختلف آیات میں ذکر فرماتا ہے ایک جگہ فرماتا ہے: فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ (الاحزاب : ۲۰) کہ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جب ان پر خوف آتا ہے اے محمد علے تو انہیں دیکھے گا کہ ان کی آنکھیں اس طرح پلٹ رہی ہوتی ہے جیسے کسی شخص پر موت کی غشی طاری ہو جائے ، آنکھیں پلٹ جاتی ہیں سیاہی نظر نہیں آرہی ہوتی صرف سفیدی دکھائی دیتی ہے۔تو فرمایا ایک ایسے لوگ بھی ہیں جن پر