خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 679
خطبات طاہر جلد ۳ 679 خطبه جمعه ۱۶ رنومبر ۱۹۸۴ء مستری کا کام کرتا ہے۔یہ اس طبقہ کے لوگ تھے جو روزمرہ کے معاملات میں عموماً سخت دل ہوتے ہیں۔ان کی گھریلو زندگی بسا اوقات تلخیوں کا شکار ہوتی ہے اور وہ اپنی اولاد سے بھی بعض دفعہ بہت سختیاں روا ر کھتے ہیں۔اس عمومی مشاہدہ کے نتیجہ میں میں بھی انہیں سخت دل ہی سمجھا کرتا تھا مگر جیسے جیسے باتیں آگے بڑھتی نہیں ان کی آنکھوں سے عقیدت اور پیار کے انمول موتی موسلا دھار بارش کی طرح برسنے لگے اور برستے چلے گئے۔آج مجھے یہ سب بہت معصوم اور پیارے لگ رہے تھے اور نرم خو بچوں سے بھی زیادہ نرم دکھائی دے رہے تھے۔جیسے ہی احمدیت کے ان دیوانوں نے یہ الفاظ سنے ” اے ربوہ کے مقدس درویشو ! اور اے خدا کے در کے فقیرو میں تو ملا جا چکا ہوں“۔تو خدا کی قسم دھاڑیں مار مار کر رونے لگے جیسے دریا کا بند اچانک ٹوٹ جائے۔میں حیران و پریشان یہ منظر دیکھتا رہا۔اس وقت ہوش آیا جب آنکھوں سے گرم گرم قطرے ٹپک ٹپک کر مجھے تر کرنے لگے۔جانے کب سے یہ سلسلہ عشق جاری تھا میں نے سوچا ہاں یہی لوگ خلیفہ وقت کے اصل درویش ہیں۔ہاں یہی اللہ کے در کے فقیر ہیں۔ربوہ کے ان باسیوں کو آپ کس نام سے پکاریں گے۔دلوں کو چیر کرکون سے پیمانے سے اس پیار اور محبت اور عقیدت کو ما پا جائے گا۔ان کا بس چلے مگر افسوس کہ ان کا بس نہیں چلتا۔دنیاوی لوگوں کو تو بڑے بڑے خطابات سے نوازا جاتا ہے اور وہ ان خطابات کے نتیجہ میں اپنی بڑائی اور تکبر میں اور بھی زیادہ آگے نکل جاتے ہیں۔مگر اے جان سے عزیز آقا! ربوہ کے بسنے والے یہ لوگ درویش اور خدا کے در کے فقیر کے خطاب سے اس قدر خوش ہیں کہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ان کو معلوم ہے کہ یہ آسمانی خطاب ہیں جو ان کے چہروں پر لکھے گئے ہیں۔عجیب شان ہے ان کی سبحان الله وبحمدہ سبحان الله العظیم“۔تو ایک طرف دشمن گندگی میں غیظ و غضب میں اپنے نفس کو جلانے میں بہت تیزی کے