خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 678 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 678

خطبات طاہر جلد ۳ 678 خطبه جمعه ۱۶/ نومبر ۱۹۸۴ء پاکستان میں ایمان کی عجیب کیفیت ہے، یوں لگتا ہے کہ روحوں پر انقلاب بر پا ہو گیا ہے۔جن لذتوں سے بالکل نا آشنا ، نابلد تھے لوگ ان روحانی لذتوں کو پاگئے ہیں اور اب ان لذتوں سے دل لگا بیٹھے ہیں۔عبادتوں کے رنگ بدل گئے ، گفتگو کے رنگ بدل گئے ، باہمی تعلقات کے رنگ بدل گئے۔اس کثرت سے اطلاعیں آرہی ہیں ایک دوسرے کو معاف کرنے کی میں نے پہلے بھی واقعات بتائے تھے کہ حیرت ہوتی ہے یہ دیکھ کر گاؤں کے گاؤں ایسے ہیں جہاں شدید پرانی دشمنیاں چلی آرہی تھیں اب وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں مبتلا ہو کر ان کی کیفیات بدل گئی ہیں رُحَمَاءُ بَيْنَهُم بنتے چلے جارہے ہیں تو اہل ربوہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایمان میں عجیب ترقی کر چکے ہیں چنانچہ ایک نوجوان کے ایک خط سے اقتباس آپ کو سناتا ہوں وہ لکھتے ہیں : ربوہ کی مقدس سرزمین کے شب وروز کا تذکرہ کرنے لگا ہوں اور معصوم چہروں والے اداس اداس پھرنے والے اپنے امام کے انتظار میں بے قرار آنکھوں والے صبر کی انتہائی بلندیوں کو چھونے والے فقیروں کی داستان بیان کرنے لگا ہوں۔حضور ! نفوس میں عجیب اور عظیم الشان تبدیلی کا بڑا ہی دلکش منظر ہے۔جوں جوں آگ نفرت کی ، غلیظ گالیوں کی فتنوں کی ، حقوق کی تلفی کی اور زندگی چھین لینے کی بھڑکائی جارہی ہے آپ کے درویش کندن بن رہے ہیں،ان کے چہرے دن بدن روشن ہوتے جارہے ہیں۔ابھی کچھ دن پہلے کا واقعہ ہے کہ خاکسار نے آپ کا ۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء کا خطبہ جمعہ محلہ کے کچھ احباب کو سنانے کا انتظام کیا، کیسٹ لگا کر ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا، جیسے ہی تلاوت کی آواز کمرے میں گونجی چہرے اس طرح کھل اٹھے اور روشن ہو گئے جس طرح اندھیرے کمرے میں اچانک کسی نے روشنی کر دی ہو۔وہ چہرے جو کچھ دیر پہلے تھکے تھکے مرجھائے مرجھائے اور اداس تھے ، کچھ دنیاوی کاموں کی وجہ سے، کچھ مسجد اسٹیشن کے لاؤڈ سپیکروں سے آنے والی مولانا کی گندی گالیوں کی وجہ - سے۔یہ سب مزدور پیشہ لوگ تھے ،کوئی چائے کا کام، کوئی روغن کا کام، کوئی