خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 680 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 680

خطبات طاہر جلد۳ 680 خطبه جمعه ۱۶/ نومبر ۱۹۸۴ء ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ احمدیوں کو اپنے فضل سے روحانیت کے بلند سے بلند تر آسمانوں کی طرف اڑائے لئے چلا جارہا ہے۔یہ منزلیں خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتی تھیں کسی ریڑھی لگانے والے کے، کسی موچی کے کسی دن بھر مزدوری میں اپنی جان دلانے والے کے تصور میں بھی نہیں آسکتی تھیں۔یہ روحانیت کی کیفیات ہیں جو اللہ کے پیار کے نتیجہ میں نصیب ہوتی ہیں۔تو وہ نشو ونما جس کا ان آیات میں ذکر ہے جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھیں وہ زندگی کے ہر میدان میں دکھائی دے رہی ہے اور جب یہ دکھائی دے رہی ہے تو کیسے ممکن ہے کہ غضب پیدا نہ ہو؟ اب ہم اپنا بڑھنا تو نہیں روک سکتے کہ غیر کو تکلیف ہوتی ہے اور غیر کی تکلیف آپ کا بڑھنا نہیں روک سکتی کیونکہ ان کے لئے مقدر نہیں ہے اس لئے بے فکر ہو کر آگے بڑھتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ نے پہلے مجھے رویا کے ذریعہ بعض خوشخبریاں عطا فر ما ئیں اور پھر ایک بہت ہی پیارا کشفی نظارہ دکھایا جو میں آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔چند روز پہلے تقربیا دو ہفتے پہلے شاید اچانک میں نے ایک نظارہ دیکھا کہ اسلام آباد جو انگلستان میں ہے اس وقت ہمارا یورپین مرکز انگلستان کے لئے۔وہاں میں داخل ہو رہا ہوں اس کمرے میں جہاں ہم نے نماز پڑھی تھی اور سب دوست صفیں بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں اسی طرح انتظار میں تو عین۔مصلے کے پیچھے چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اپنی اس عمر کے ہیں نظر آرہے ہیں جو ۲۰/۱۵ سال پہلے کی تھی اور رومی ٹوپی پہنی ہوئی ہے، وہ جو پرانے زمانہ میں پہنا کرتے تھے اور نہایت ہشاش بشاش عین امام کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے دیکھتے ہی وہ نماز کی خاطر اٹھ کر کھڑے ہوئے اور میں ان کی طرف بڑھنے لگا کہ پوچھوں چوہدری صاحب آپ کب آگئے ، آپ تو بیمار تھے اچانک کیسے آنا ہوا؟ تو وہ نظارہ جا تا رہا۔آنکھیں کھلی تھیں اور جو منظر سامنے ویسے تھا وہ سامنے آ گیا۔تو اللہ تعالیٰ ایسی خوشخبریاں بھی عطا فرما رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نصرت اور اسکے ظفر کے وعدے انشاء اللہ تعالیٰ جلد پورے ہوں گے تو یہ باتیں ان کے علاوہ ہیں۔جماعت تو ہر حال میں ترقی کر ہی رہی ہے جتنا خدا انتظار کروائے ہم کریں گے انشاء اللہ کیونکہ ہم کھو کچھ نہیں رہے ہمارے ہاتھ سے جا کچھ نہیں رہا۔ایک دکھ ہے اللہ کے لئے جو ہمیں پہلے سے زیادہ اور آگے بڑھاتا چلا جارہا ہے اس لئے نقصان کا کوئی سودا تو ہے ہی نہیں ، میں اس لئے تسلی نہیں دے رہا مگر میں یہ بتا رہا ہوں کہ اللہ کے رنگ عجیب ہیں۔وہ بظا ہر قربانی