خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 677
خطبات طاہر جلد ۳ 677 خطبه جمعه ۱۶/ نومبر ۱۹۸۴ء کر آیا ہے! تو جب خدا نے یہ نظارہ مجھے دکھایا تو ایسی مجھے لذت حاصل ہوئی خدا کے پیار کے اظہار پر کہ سارے دکھ پچھلے بھول گئے بلکہ میں شرمندگی محسوس کرتی ہوں کہ میں نے اس بات پر تکلیف کیوں محسوس کی؟ یہ جو ایک دو واقعات میں بیان کر رہا ہوں وقت کی مناسبت سے مجبوراً تھوڑے واقعات بیان کرنے پڑتے ہیں۔ایک دفعہ دو تین پچھلے خطبے لمبے ہو گئے تھے تو ہمارے ایک نوجوان ہیں نوجوان تو نہیں مگر بہر حال بوڑھے بھی نہیں ہوئے ابھی مخلص ہیں بچارے یہاں تشریف لائے ہوئے تھے جمعہ پر اور ذیا بیطس کے مریض ہیں تو انہوں نے مجھ سے شکوہ کیا کہ آپ نے اتنا خطبہ لمبادیا کہ میرا تو بھوک کے مارے برا حال تھا، میں ذیا بیطس کا مریض ہوں مجھے لگتا تھا میں بے ہوش ہو کر جا پڑوں گا۔واقعہ یہ ہے کہ مجھے علم ہے بعض دفعہ خطبے لمبے ہو جاتے ہیں لیکن اصل میں صرف آپ نہیں ہیں جو میری آنکھوں کے سامنے بیٹھے ہیں۔پاکستان کے لوگ بیچارے اتنا تر سے ہوئے ہیں کہ ان کو لمبے خطبے بھی چھوٹے لگتے ہیں اور اکثر مجھے یہ شکوہ آتا ہے ہر خط میں کہ ابھی ہم نے شروع ہی کی تھی Tape تو ختم بھی ہوگئی ، ہم تو انتظار کر رہے تھے کہ ابھی اور مزہ آئے گا تو اچانک Tape ختم ہوگئی اس لئے بعض دفعہ آپ کو اگر صبر کا مظاہرہ کرنا پڑے، کوفت بھی اٹھانی پڑے تو اگر ان بھائیوں کا خیال کریں گے تو آپ کو اللہ تعالیٰ اس کی جزا عطا فرمائے گا۔غالب کہتا ہے: کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں میری آواز گر نہیں آتی ( دیوان غالب صفحه : ۲۵۰) میرا بھی یہی حال ہے۔میں تو اپنے لئے نہیں بولتا مجھے تو ان پیاروں کی یاد آتی ہے جوان دنوں کو ترس گئے ہیں جب مسجد اقصیٰ میں خطبے ہوا کرتے تھے ، لوگ اکٹھے ہوا کرتے تھے، باہر سے دور دور سے لوگ آتے تھے اور وہ یادیں ان کو آتی ہیں، تو انتظار ہی ان کا اب یہ رہ گیا ہے کہ کب ٹیپ (Tape) آئے اور کب ہم ان آوازوں کو سنیں۔جہاں تک اہل ربوہ کا تعلق ہے میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ خدا کے فضل سے ان کو غیر معمولی قربانی کی توفیق مل رہی ہے اور نشو و نما ان کے ہاں بھی بڑی حیرت انگیز ہورہی ہے۔سارے