خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 676 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 676

خطبات طاہر جلد ۳ 676 خطبه جمعه ۱۶/ نومبر ۱۹۸۴ء تھا۔واقعہ یہ ہوا کہ اس گھر کے قریب ایک اور جگہ کچھ لوگ ایک بیل کو ذبح کر رہے تھے، ابھی آدھی گردن اس کی کئی تھی کہ وہ اٹھ کر دوڑا اور دوڑ کر اس شخص کے صحن میں داخل ہوا۔وہ احمدی جو قید تھا خدا کے نام پر اور جو اپنے گھر میں بیل ذبح کیا کرتا تھا اور پھر وہ نہیں نکلا یہاں تک کہ جس جگہ وہ بیل ذبح کیا کرتا تھا وہاں اس کو انہوں نے لٹایا تو پھر وہاں وہ لیٹا ہے اور وہیں اس کو ذبح کیا گیا۔اب وہ بیچارے تو شاید سمجھتے رہے ہوں کہ یہ وہ قربانی دے رہے ہیں یہ اللہ جانتا ہے کہ وہ قبول کس کی طرف سے ہوئی ہوگی۔اب یہ چھوٹا سا واقعہ ہے لیکن اس سے خدا تعالیٰ کے پیار کا کیسا اظہار ہوتا ہے ! کس طرح وہ بار یک نظر سے اپنے بندوں کو دیکھتا ہے اور اپنے پیار کے چھینٹے دیکر انہیں زندہ رکھتا ہے۔یہ تو پیار کے اظہار کا ہے ، خدا تعالیٰ کے انتقام بھی اسی طرح جگہ جگہ ظاہر ہور ہے ہیں اور بڑی کثرت سے اطلاعیں مل رہی ہیں کہ انفرادی طور پر بعض احمدیوں کے دل دکھتے ہیں، ان کے دل سے ایک آہ نکلتی ہے تو اس رنگ میں خدا تعالیٰ فوراً حساب چکاتا ہے کہ وہ حیران رہ جاتے ہیں دیکھ کر۔ایک احمدی استانی نے مجھے لکھا کہ میں ایک گاؤں میں استانی مقرر ہوئی جہاں کوئی احمدی نہیں ہے تو مجھے ایک غیر احمدی معزز خاندان نے جو بہت ہی شریف لوگ ہیں انہوں نے جگہ دی کہ تم بہت دور سے تو آہی نہیں سکتی اتنا دور ہے تمہارا اصل گھر یہاں ہمارے پاس ٹھہر جاؤ چنانچہ میں ان کے پاس ٹھہری ہوئی تھی۔مخالفت جب ہوئی تو شور مچا دیا سب نے کہ اس کو گھر سے نکالو۔گھر والے شریف تھے انہوں نے کہا ہم نہیں نکالیں گے۔انہوں نے کہا اچھا اگر نہیں نکالو گے تو ہمارے گاؤں کے کنوئیں سے تم نے پانی نہیں بھرنا کیوں کہ اس پلید عورت کو گاؤں کا پانی پلایا جائے گاؤں کے کنواں کا یہ بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے۔چنانچہ انہوں نے اپنے گھر میں نلکا لگالیا اور پانی پینے لگے۔کچھ دن کے بعد گاؤں میں شور پیدا ہوا کہ اس کنواں کا پانی جو ہے وہ کچھ بدل سا گیا ہے اس میں عجیب قسم کی بد بو پیدا ہونی شروع گئی ہے تحقیق کی تو پتہ لگا کہ ایک کتا وہاں گر کر مر گیا تھا جس کا کسی کو پتہ نہیں چلا۔جب وہ گل کر بد بو چھوڑ گیا اس وقت جا کر ان کو پتہ چلا کہ جتنی دیر انہوں نے مرزائین کا پانی بند کئے رکھا ہے اتنی دیروہ کتے کا مرا ہوا گندا پانی پی رہے تھے اور وہ عورت کہتی ہے کہ میرا دل جو تھا پہلے بڑا سخت درد محسوس کرتا تھا میں سخت بے قراری محسوس کرتی تھی دل میں کہ اے اللہ ! مجھے کتوں سے زیادہ ذلیل سمجھا ہوا ہے انہوں نے کہ پانی جو میں پی لونگی دور بیٹھے وہ اور وہ اس پانی کو بھی پلید کر دے گا جہاں سے نکل