خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 667 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 667

خطبات طاہر جلد۳ 667 خطبه جمعه ۱۶/ نومبر ۱۹۸۴ء احمد یہ ترقی نہ کرتی تو یہ غیظ و غضب نہ پیدا ہوتا اور غیظ و غضب کے باوجود جماعت ضرور ترقی کرے گی یہ دوخوشخبریاں ہیں جو اس آیت میں دی گئی ہیں کیونکہ نتیجہ یہ نکالتا ہے اللہ تعالیٰ اس کیفیت کا کہ اگر چہ غضب بھی ان میں پیدا ہوتا ہے اسکے نتیجے میں لیکن خدا نے یہ تقدیر اس لئے جاری کی ہے تا کہ بیج بونے والوں کے دل خوش ہوتے چلے جائیں یعنی وہ بڑھتے چلے جائیں۔اگر وہ بڑھیں گے نہیں تو انکے دل کیسے خوش ہو سکتے ہیں؟ تو غضب کے باوجود دلوں کی خوشی کا سامان ان کی ترقی میں ہے یہ راز بتایا گیا ہمیں اور جماعت کو یہ نکتہ سمجھایا گیا کہ جب شدید غضبناک حالتوں میں تم اپنے دشمنوں کو پاؤ گے تو اس وقت بھی تمہارے دلوں میں یہ خوشی ہونی چاہئے کہ تم ترقی کر رہے ہو شدید مخالفتوں کے باوجود، تلواروں کے سائے میں تم لوگ آگے بڑھ رہے ہو۔اس طرف نظر رکھو گے تو تمہارا دل خوش رہے گا۔اگر اپنی ترقی کی طرف نظر نہیں رکھو گے تو پھر تمہاری خوشیاں چھین لیں گے لوگ اس لئے خدا کی رحمتوں ، خدا تعالیٰ کے افضال پر نظر کر کے وہ فرحت حاصل کریں جس کے لئے قرآن کریم کی پیشگوئی کے مطابق آپ پیدا کئے گئے ہیں۔آپ کے دلوں کو خدا نے ترقی کی طرف نظر ڈال کر خوش ہونے کے لئے بنایا ہے اس لئے ان کے غضب سے آپ کی وہ مسرتیں جو اسلام کی ترقی کے نتیجے میں آپ کے دل میں پیدا ہونی چاہئیں وہ تو نہیں چھینی جاسکتیں تو اس طرف نظر ڈالیں اور اس سے طاقت حاصل کریں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جماعت احمد یہ ہر غیظ و غضب کی حالت میں نہ صرف یہ کہ ترقی کرتی ہے بلکہ پہلے سے بڑھ کر ترقی کرتی ہے اور اس وقت یہی نظارہ ہم سب دنیا میں دیکھ رہے ہیں ایک بھی استثناء نظر نہیں آتا ، ساری جماعت کی تاریخ میں کہ کبھی دشمن نے عناد کی آگ لگائی ہو اور جماعت کا کوئی حصہ جل کر بھسم ہو گیا ہو۔ہر بار بلا استثنا جب دشمن نے آگ بھڑکائی ہے جماعت کندن بن کر نکلی ہے، پہلے سے زیادہ قوت سے ظاہر ہوئی ہے، پہلے سے زیادہ شان و شوکت کے ساتھ ابھری ہے، اس میں نئی نئی شاخیں پھوٹی ہیں، نیا وجود اس کو زندگی کے اعتبار سے ملا ہے، نئے نئے وجود ملے ہیں، نئے ملکوں میں پھر وہ قائم ہوئی ہے ،نئی حدوں کو پار کر کے وہ آگے بڑھ گئی ہے۔کوئی ایک سمت بھی ایسی نہیں آپ بتا سکتے جس میں جماعت دشمنی کے نتیجہ میں سکڑ گئی ہو، جہاں پیچھے ہٹ گئی ہو۔زندہ قوموں کی ترقی کے جو بھی معیار آپ سوچ لیں ایک ایک معیار کو چسپاں کر کے دیکھیں۔ہر معیار کے اعتبار