خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 668 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 668

خطبات طاہر جلد ۳ 668 خطبه جمعه ۱۶/ نومبر ۱۹۸۴ء سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نہ صرف آگے مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہے بلکہ دشمنیوں کے وقت زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ جاتی ہے۔چنانچہ اس وقت جو ایک طرف ان دکھوں کی خبروں کی طرف نظر پڑتی ہے تو دوسری طرف اللہ کے ان فضلوں کی طرف بھی نظر پڑتی ہے کہ پہلے سے بہت زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ جماعت پھیلنی شروع ہو گئی ہے۔اب بعض دفعہ تو مجھے ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو سو بیعت فارموں کے جواب دینے کے لئے دستخط کرنے پڑتے ہیں اور ساری دنیا سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نئی نشو ونما کی خبریں آرہی ہے۔لیکن یہ کیفیت ابھی اور بہت زیادہ شان کے ساتھ آپ کے سامنے ابھرنے والی ہے۔ابھی تو یہ آغاز ہے کیونکہ یہ وہ دور ہے جس میں ساری جماعت کو مبلغ بننا ہے انشاء اللہ تعالیٰ اور اس کے لئے جب تک میری زندگی کا آخری سانس ہے میں کوشش کرتا رہوں گا کیونکہ وہ آخری ترقی جس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے تیاری کر رہے ہیں اور وہ آخری جنگ جو اسلام کی فتح کے لئے غیروں سے ہم نے لڑنی ہے اسکے لئے ایک فوج تیار ہو رہی ہے خدا کے فضل سے، اس تیاری میں کچھ وقت ابھی لگے گا۔جس طرح زمیندار جانتے ہیں جب وہ چھٹا دیتے ہیں بیجوں کا تو شروع میں اس محنت کا کچھ بھی نتیجہ دکھائی نہیں دیتا۔میں خود زمیندار ہوں اپنے ہاتھ سے کاشت کی ہوئی ہے۔مجھے پتہ ہے کئی دفعہ گندم کا چھٹا ڈالا اس کے بعد اسکو مٹی میں دبایا اور خصوصاً جب موسم نا خوشگوار ہو، ناموافق ہوتو بعض دفعہ بڑی دیر تک دانے نہیں نکلتے اور گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے کہ کیا ہو رہا ہے؟ ساری محنت مٹی میں دب گئی لیکن پھر خدا کے ہاں وقت مقدر ہیں، وہ محنت رنگ لاتی ہے اور خدا کے فضل سے کہیں کہیں سے روئیدگی پھوٹے لگتی ہے اور زمیندار کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کو دیکھ کر زمیندار ہی جان سکتے ہیں اس کو شروع میں تو جب جاتے ہیں کھیتوں میں تو تلاش کرتے ہیں کہاں سے کوئی دانہ پھوٹا ہوا ہے اور بعض دفعہ ایک صرف سارے ایکٹر میں یا بعض دفعہ سینکڑوں ایکڑوں میں جو پہلا سبزہ ان کو نظر آتا ہے اس کو دیکھ کر ان کا دل ایسا خوش ہوتا ہے کہ گویا سارے جہان کی دولتیں نصیب ہوگئی ہیں۔پھر رفتہ رفتہ وہ روئیدگی بڑھتی ہے اور اچانک مٹیالا رنگ سبزے میں تبدیل ہو جاتا ہے، سارا منظر ہی بدل جاتا ہے لیکن اس وقت بھی اس کی حالت اتنی نازک ہوتی ہے کہ جب تک بیچ کی طاقت اس کو حاصل نہ ہو اس