خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 666 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 666

خطبات طاہر جلد ۳ 666 خطبه جمعه ۱۶/ نومبر ۱۹۸۴ء پہلی بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ روئیدگی پھوٹتی ہے اور پھر تنا مضبوط ہو جاتا ہے یا روئیدگی مضبوط ہو جاتی ہے فرمایا روئیدگی پھوٹتی ہے اور اپنی کونپلوں کو پہلے طاقت دیتی ہے۔اس میں نہ صرف یہ کہ گہر ا فلسفہ بیان کیا گیا ہے الہی قوموں کی ترقی کا بلکہ جس حوالہ سے بات کی جارہی ہے زراعت کے حوالے سے اس کے بھی ایک راز کی گہری حقیقت پر روشنی ڈالی جارہی ہے، ایک زرعی قانون پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ جب بیج روئیدگی نکالتا ہے تو پہلے جب تک بیج اس کو طاقت دے کر آگے نہ بڑھا دے وہ روئیدگی خود اپنی طاقت سے ایک کو نیل کو ظاہر نہ کرے اس وقت تک وہ بیرونی غذا کے محتاج نہیں ہوتے اور بیرونی غذا اس کو فائدہ پہنچا بھی نہیں سکتی۔اپنے پاؤں پر پودا نہیں کھڑا ہوسکتا جب تک پہلے پیج کی اس طاقت سے جو روئیدگی یعنی سبزے میں تبدیل ہو جاتی ہے براہ راست قوت نہ پائے۔تو ابتدائی حصہ الہی قوموں کی نشو ونما کا خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کی ذاتی تربیت میں اور ان کی قوت سے فیض پاکر نشو نما پاتا ہے۔جس طرح انڈے میں ایک زردی ہوتی ہے جو غذا کا کام دیتی ہے چوزے کے لئے اگر چہ سفیدی سے اس کا جسم بنتا ہے لیکن زردی اسکے پیٹ میں غذا کے طور پر ہوتی ہے اگر وہ زردی موجود نہ ہو تو چوزہ نشو ونما نہیں پاسکتا۔ناممکن ہے خواہ سارا جسم بھی بن جائے وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔تو فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہوتے ہیں جو بیج بوتے ہیں اور پھر انہی کی طاقت سے ابتدائی روئیدگی کونپلوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ان کی قوت قدسیہ ہے جو کار فرما ہوتی ہے، انکی روحانیت ہے جو ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے اپنے ماننے والوں کو۔جب یہ واقعہ ہو جائے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا جماعت کا وقت آجائے یعنی اس الہی جماعت کا تو وہاں سے پھر یہ مثال شروع ہوتی ہے فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِہ پھر وہ مضبوط ہونی شروع ہو جاتی ہے، فَاسْتَوى عَلى سُوقِه پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہے اس پر بلوغت کا وقت آجاتا ہے۔جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہے یہ ایک ایسی کیفیت ہے جسے دشمن برداشت نہیں کر سکتا اور شدید غیظ وغضب میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پورا زور لگا تا ہے کہ اسکو مٹادے۔تو جماعت کے خلاف جتنی دشمنی ہے، جتنا غیظ آپ دیکھ رہے ہیں یہ لازماً اس بات کا نتیجہ ہے کہ آپ ترقی کر رہے ہیں، قرآن کریم کی پیشگوئی بعینہ اسی طرح پوری ہو رہی ہے اگر جماعت