خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 59

خطبات طاہر جلد ۳ 59 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء وہ آیت جو میں نے شروع میں تلاوت کی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا خود ترجمہ فرمایا ہے میں وہ ترجمہ پڑھ کر سنادوں ، میں نے جو آیت تلاوت کی تھی وہ یہ تھی يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنَّ اس آیت کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں یہ ہے: بد گمانی کی باتیں مت کرو اور نہ عیبوں کو کرید کرید کر پوچھو، ایک دوسرے کا گلہ مت کرو، کسی کی نسبت وہ بہتان یا الزام مت لگاؤ جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں اور یا درکھو کہ ہر ایک عضو سے مواخذہ ہوگا اور کان ،آنکھ دل ہر ایک سے پوچھا جائے گا“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلده اصفحہ :۳۵۰) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دل تو اللہ تعالیٰ کی صندوقچی ہوتا ہے اور اس کی کنجی اس کے پاس ہوتی ہے۔کسی کو کیا خبر کہ اس کے اندر کیا ہے؟ تو خواہ مخواہ اپنے آپ کو گناہ میں ڈالنا کیا فائدہ؟ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک شخص بڑا گنہ گار ہو گا، خدا تعالیٰ اس کو کہے گا کہ میرے قریب ہو جا یہاں تک کہ اس کے اور لوگوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے پردہ کر دے گا اور اس سے پوچھے گا کہ تو نے فلاں گناہ کیا، فلاں گناہ کیا لیکن چھوٹے چھوٹے گناہ گنائے گا۔وہ کہے گا کہ ہاں یہ گناہ مجھ سے ہوئے ہیں خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ اچھا آج کے دن میں نے تیرے سب گناہ معاف کئے اور ہر ایک گناہ کے بدلے دس دس نیکیوں کا ثواب دیا۔تب وہ بندہ سوچے گا کہ جب ان چھوٹے چھوٹے گناہوں کا دس دس نیکیوں کا ثواب ملا ہے تو بڑے بڑے گناہوں کا تو بہت ہی ثواب ملے گا۔یہ سوچ کر وہ بندہ خود ہی اپنے بڑے بڑے گناہ گنائے گا کہ اے خدا! میں نے تو یہ گناہ بھی کیے ہیں۔تب اللہ تعالیٰ اس کی بات سن کر ہنسے گا اور فرمائے گا کہ دیکھو میری مہربانی کی وجہ سے یہ بندہ ایسا دلیر ہو گیا ہے کہ اپنے گناہ خود ہی بتلاتا ہے۔پھر ا سے حکم دے گا کہ جا بہشت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازے سے تیری طبیعت