خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 58
خطبات طاہر جلد ۳ 58 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء جائے تو وہ تو خون چوس جائیں اور کبھی بخشتے کے اوپر آمادہ نہ ہوں اس لئے ان معنوں میں وہ گناہ جن کے بخشنے کا معاملہ انسانوں کے ہاتھ میں چلا جائے وہ بہت برے گناہ ہیں ان گناہوں کے مقابل پر جن گناہوں کے بخشنے کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں رہتا ہے۔اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جولوگ بڑی کثرت سے غیبت کر بیٹھتے ہیں اور روز کرتے ہیں اور بطور چورن استعمال کیا جاتا ہے غیبت کو ، ان کے لئے اب کفارہ کیا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے الله اس موضوع پر کیا روشنی ڈالی ہے، تو آنحضور ﷺ فرماتے ہیں، یہ مشکوۃ المصابیح سے حدیث لی گئی ہے اور انہوں نے بیہقی سے لی ہے آگے کہ حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تو اس شخص کے لئے بخشش طلب کرے جس کی تو نے غیبت کی ہے اور اس کے لئے دعا مانگتا ر ہے اللَّهُمَّ اغْفِرُ لَنَا وَلَهُ۔باقی عمر اگر غیبت کے بداثرات سے بچنا ہے تو پھر اس کے لئے دعا کی طرف متوجہ ہوں اور یہ ایک بہت ہی عمدہ ذریعہ اصلاح ہے یعنی صرف کفارہ ہی نہیں بلکہ غیبت سے بچنے کی ایک بہت ہی پیاری ترکیب ہے ورنہ جس کو غیبت کا چسکا پڑ چکا ہو اس کا اس برائی سے باز رہنا بہت ہی مشکل کام ہے لیکن جس شخص کی آپ غیبت کرتے ہیں زیادہ اس کے لئے اگر دعا شروع کر دیں اور بطور کفارہ کے دعا شروع کر دیں تو وہ دعا آپ کی اندرونی کیفیت کو بدل دے گی ، یہ ممکن ہی نہیں رہے گا آپ کے لئے فطرتا کہ ایک طرف آپ اس کے لئے دعا کر رہے ہوں اپنی بخشش کی خاطر اور دوسری طرف اس کی غیبت بھی کر رہے ہوں۔تو ایک بہت ہی پاکیزہ ترکیب ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی علی نے بیان فرمائی۔کفارہ بھی ہے اور برائیوں سے بچنے کا ایک علاج بھی ہے۔آخر پر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو اقتباسات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں حضور فر ماتے ہیں: غیبت کرنے والے کی نسبت قرآن کریم میں ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔عورتوں میں یہ بیماری بہت ہے۔آدھی رات تک بیٹھی غیبت کرتی ہیں اور پھر صبح اٹھ کر وہی کام شروع کر دیتی ہیں لیکن اس سے بچنا چاہیئے (ملفوظات جلد ۵ صفحه : ۲۹) الله