خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 60

خطبات طاہر جلد ۳ 60 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء چاہے داخل ہو جا۔تو کیا خبر ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس سے کیا سلوک ہے یا اس کے دل میں کیا ہے اس لئے غیبت کرنے سے بکلی پر ہیز کرنا چاہئے“۔( ملفوظات جلد ۵ صفحه ۱۱) یہ جو حدیث ہے اس سے پہلے ایک اور روایت بھی آئی ہے مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہے اور وہاں بھی آنحضرت ﷺ نے اس کا تعلق ستاری سے قائم کیا تھا، فرمایا تھا جو شخص دنیا میں ستاری سے پیش آتا ہے اور لوگوں کے گناہوں کا ذکر نہیں کرتا دوسروں سے اور پردہ پوشی سے کام لیتا ہے اس کے ساتھ خدا یہ سلوک فرمائے گا۔ایک اور حدیث میں یہی مضمون ایک اور طریق پر بیان ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ مضمون پیش نظر رکھا اور آخر پر غیبت کا مضمون اس سے باندھا ہے بڑے عجیب طریق پر۔آپ کا منشاء مبارک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دلوں سے اپنا ایک تعلق اور ایک سلوک ہے اور وہ دلوں کی اندرونی کیفیات کو جانتا ہے، تمہیں بسا اوقات ایک انسان کے گناہ تو نظر آ جاتے ہیں لیکن تمہیں یہ پتہ نہیں کہ وہ گناہگار آدمی اپنے دل میں کیا کیا محبتیں اپنے رب سے رکھتا ہے اور کیا کیا عاجزی کرتا ہے اور کس کس طرح پیار سے اس کی رحمت کے قدم چومتا ہے اور عرض کرتا رہتا ہے کہ اے خدا! مجھ سے عفو کا سلوک فرما۔تو دلوں کے مالک تم نہیں ہو دلوں کا مالک رَبُّ العلمین ہے جو عفو ہے جو ستار ہے جو غفور ہے جو رحیم ہے۔وہ بعض دفعہ ایسے گناہ گارلوگوں کے دلوں پر نظر رکھتے ہوئے ، ان کی بعض مخفی خوبیوں پر نگاہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ بھی فرمالیتا ہے کہ ان کی نیکیوں ہی کا نہیں ان کی بدیوں کا بھی میں اجر دوں گا اور اچھا اجر دوں گا اور تم اپنی بد بختی میں اس کے متعلق بری باتیں کہتے رہتے ہو، برے برے لفظ بولتے رہتے ہو، اس کے متعلق دل آزاری کی کوشش کرتے رہتے ہو۔تو جس دل پر خدا کی ایسی پیار کی نظر بھی پڑسکتی ہے کیوں تم گناہ میں ملوث ہو کر اس دل کے متعلق بری باتیں کہتے ہو۔یہ ہے معرفت کا نکتہ جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا۔اگر چہ بظاہر یہ بے جوڑ بات نظر آتی ہے جو سرسری نظر سے اس بات کو دیکھے کہ اس مضمون کا غیبت سے کیا تعلق ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو ان باریک باتوں پر نظر رکھنی چاہئے جو خوف سے ڈرنے والے