خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 55
خطبات طاہر جلد ۳ 55 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء اور ان کی کمزوریوں کا پیچھا نہ کیا کرو، ان کی ٹوہ میں نہ لگے رہو کیونکہ جو شخص ان کی کمزوریوں کا پیچھا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی کمزوری اور اس کے عیب کو اس طرح ظاہر فرما دے گا کہ اسے خود اس کے گھر ہی میں رسوا کر دے گا۔(مسند احمد کتاب اول مسند البصر بین حدیث ابی برزہ اسلمی ) اس مضمون کی ایک اور حدیث میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کی تھی اس میں جو زائد پر لطف بات ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے: وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ (الجرات: ١٥) کہ اے بدولوگو! جو بظاہر ایمان لائے ہو کہتے ہو کہ ہم ایمان لائے تمہارے دلوں میں تو ایمان نے جھانک کر بھی نہیں دیکھا ، داخل ہی نہیں ہوا، اس کی ایک تعریف، وہ کون لوگ ہیں جن کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا؟ ان کی تعریف آنحضور علی فرماتے ہیں کہ وہ غیبت کرنے والے ہیں ، ایسے لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کی برائیوں کی تلاش میں رہتے ہیں ، پھر ان لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔کتنی خطرناک بات ہے غیبت اس سے آپ اندازہ کریں۔آنحضرت معہ تفسیر فرماتے ہیں قرآن کریم کی ایک آیت کی اور بتاتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا کہ ایمان ان کے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا ان کے اعمال کیسے ہوتے ہیں ان اعمال سے ان کو پہچان لو۔وہ غیبت کرنے والے لوگ ہیں، وہ بھائی کی بدیوں کی تلاش میں رہنے والے اور ان کا تمس کرنے والے لوگ ہیں اور فرمایا کہ اس دنیا میں بھی ان کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے گا اور اس کی سزا دے گا۔پھر آنحضور ﷺ نے ایک موقعہ پر فرمایا یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کی ضد میں قیمتیں نہ بڑھاؤ ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ایک دوسرے کے پیٹھ پیچھے برائی نہ بیان کرو، کسی کے سودے پر سودا نہ کرو، ایک دوسرے کے بھائی رہ کر اللہ کے بندے بنو، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے نہ اس کی تو ہین کرتا ہے۔تقویٰ کا مقام دل ہے۔آپ نے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا انسان