خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 56

خطبات طاہر جلد ۳ 56 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء کے شر اور اس کی بدبختی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقارت سے دیکھے، ہر مسلمان پر حرام ہے کہ وہ کسی مسلمان کا خون بہائے یا اس کا مال ضائع کرے یا اس کی آبروریزی کرے۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة باب تحريم الفن والتجسس والتنافس والتناجش ونحوها) حضرت عثمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضوراکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ غیبت اور چغل خوری ایمان کو اس طرح کاٹ چھانٹ دیتے ہیں جس طرح چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کے لئے درختوں کی شاخیں کاٹ کر ان کے سامنے ڈالتا ہے۔آپ نے اگر ایسا درخت دیکھا ہوگا جس کو چرواہے نے کاٹ کر بھیڑ بکریوں کے سامنے ڈالا ہو تو اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کیا بیان فرمارہے ہیں۔ایک دفعہ سندھ میں میں اپنی زمین کے دورہ پر گیا تو میں دیکھ کر حیران رہ گیا یہ دیکھ کر کہ جواردگرد باڑوں کے طور پر درخت تھے وہ پہچانے نہیں جاتے تھے ، شاخین بری طرح کئی ہوئیں۔عجیب بے رونقی کا عالم تھا، یوں لگتا تھا جیسے کوئی و بال پھر گیا ہے ان کے اوپر۔میں نے مینجر سے پوچھا کہ ان درختوں کو یہ کیا ہوا، یہ تو لگتا ہے ان پر قیامت ٹوٹ گئی ہے اور فصلیں ٹھیک ٹھاک ہیں۔تو اس نے بتایا کہ میں نے چرواہوں کے پاس ان کو اس شرط پر بیچا تھا کہ تنے باقی رہ جائیں اور سبزی ان کی اتارلیں تو سبزی کے ساتھ وہ ٹہنیاں بھی اتار کر لے گئے۔اس طرح چرواہے کرتے ہیں درختوں کے ساتھ جب ان کو موقع مل جائے۔تو آنحضرت عﷺ نے یہ نقشہ کھینچا کہ جو غیبت کرنے والے اور چغل خوری کرنے والے یہ لوگ ہیں وہ اپنے ہی ایمانوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں اور پھر اس کی تفصیل ایک اور جگہ اس طرح بیان فرمائی کہ انسان اپنے اعمال نامہ کو قیامت کے دن کھلا ہوا لائے گا اور عرض کرے گا کہ اے میرے رب میری فلاں فلاں نیکیاں کہاں گئیں ! وہ بھی تو میں نے کی تھیں۔جس طرح آپ اپنا ہی کھانہ دیکھتے ہیں، چیک کرتے ہیں۔جو اس کو کھانہ ملے گا اعمال کا وہ اس میں اپنی بہت سے خوبیاں، بہت سی نیکیاں درج شدہ نہیں پائے گا تو اپنے رب سے عرض کرے گا یا اللہ! مجھے تو یاد ہے میں نے یہ بھی کیا تھا وہ بھی کیا تھا ان کا تو کوئی ذکر نہیں ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس کا جواب دے گا وہ تو تیری طرف سے لوگوں کی غیبت کرنے کے نتیجہ میں مٹادی گئیں تھیں۔( کنز العمال جلد ۳ صفحہ۵۹۰) کیسی پیاری مثال دی ہے حضور اکرم ﷺ نے کہ جس طرح چرواہا درختوں کے ساتھ