خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 54
خطبات طاہر جلد ۳ 54 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء جائے۔ایسے صاف گولوگ خدا کو بالکل پسند نہیں ہیں اس لئے جماعت احمد یہ میں ایسے صاف گولوگ ہمیں نہیں چاہئیں۔ہمیں تو ویسے صاف گو لوگ چاہیں جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی علے تھے، ان سے زیادہ صاف گوکون ہو سکتا ہے لیکن آپ دکھوں کی باتیں لوگوں تک پہنچانے سے احتراز فرماتے تھے اور اس سے منع فرمایا کرتے تھے اور دکھوں کی باتیں لوگوں کے متعلق کرنے سے احتراز فرماتے تھے اور ان سے منع فرماتے تھے۔تو آپ نے فرمایا کہ تو نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر موجود نہیں تو تو نے اس پر بہتان باندھا ہے یہ مسلم کی حدیث ہے۔الترغیب والترھیب میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد درج ہے کہ ”جس کے پاس اس کے کسی مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس کا دفاع کر کے اس کی مدد نہ کرے حالانکہ وہ اس کی مدد کر سکتا تھا تو اس کا گناہ دنیا اور آخرت میں اسے بھی پہنچے گا“۔(الترغیب والترھیب جلد ۳ صفحه ۳۳۴،مسند الحارث زوائد الھیثمی جلد ۲ صفر ۷۶۴ ) بعض لوگ کہتے ہیں جی ہم نے تو صرف سنی ہے غیبت ، ہم نے تو حصہ نہیں لیا خود کسی کے خلاف برائی نہیں کی۔ان کے متعلق آنحضرت علی فرماتے ہیں کہ انہوں نے بھی گناہ سے حصہ پالیا۔اگر تم سنتے ہو اور منع نہیں کرتے اور برانہیں مناتے یا اپنے بھائی کا دفاع نہیں کرتے تو ایسی صورت میں غیبت کے گناہ میں تم بھی حصہ دار ہو گئے۔پھر سنن ابی داؤد میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے ” جب مجھے معراج کے لئے لے جایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے جبرائیل سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟ تو اس نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جولوگوں کی غیبت کرتے تھے اور ان کی آبرو کے پیچھے پڑے رہتے تھے “۔(ابوداؤد کتاب الادب باب فی الغیبة ) یہاں تجسس کا بھی ذکر فرما دیا، کسی کے متعلق ایسی باتوں کی تلاش کرنا کہ وہ بے آبروئی کاموجب بنے اور پھر غیبت کر کے لوگوں تک پہنچانا یہ برائیاں اتنی خطرناک ہیں کہ ان کی سزا جو خدا تعالیٰ نے تجویز فرمائی وہ آنحضرت ﷺ کو معراج کے روز دکھائی گئی۔مسنداحمد بن حنبل ہی کی ایک اور حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” اے وہ لوگو! جو زبان سے تو ایمان لائے ہو مگر دل میں ایمان داخل نہیں ہوا تم مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور ان کے عیوب