خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 565
خطبات طاہر جلد ۳ 565 خطبه جمعه ٫۵اکتوبر ۱۹۸۴ء لئے اور عجیب الٹ قصہ ہے کہ غصہ تم کر رہے ہو اور ہم معاف کرتے چلے جارہے ہیں وہی بات ہے کہ : ان کو آتا ہے پیار پر غصہ اور ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے یہ ہیں مومن خدا کے بندے۔عجیب نقشہ کھینچتا ہےاللہ تعالیٰ انا وَ الْهُنَا وَ الْهُكُمْ وَاحِدٌ اور پھر یہ دیکھو تمہارا معبود اور ہمارا معبود ایک ہی ہیں۔ونَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ اور ہم جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اس ایک خدا کی طرف منسوب ہو کر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔اسلام تو خدا کے ہاتھ پر لایا جاتا ہے ہم تو اپنے رب کے لئے اسلام لائے ہیں تمہیں اس کی کیا تکلیف پہنچ رہی ہے؟ تمہیں یہ تکلیف ہے کہ ہم تمہاری تصدیق کرتے چلے جارہے ہیں، تمہیں یہ غصہ ہے کہ جو تمہارا ایمان ہے، ہم کہتے ہیں سو فیصدی درست ہے! تمہیں یہ تکلیف ہے کہ جو خدا نے نازل فرمایا ہے ہم ہر بات کو مانتے چلے جاتے ہیں اور یہ غصہ ہے کہ اس خدا کو کیوں مانتے ہو جو سب کا خدا ہے اور اس کے نام پر کیوں مسلمان ہو گئے ؟ یہ تو کوئی عقل کی بات نہیں ، یہ تو کوئی انصاف کی بات نہیں۔یہ ہے حق کی تفصیل جو خدا نے بیان فرمائی۔پہلے اپنے نفوس کو پاک وصاف کرو، عبادت کے طریق سیکھو اور عبادت میں یاد الہی پر سب سے زیادہ زوردو۔اگر تم ذکر اللہ کی عادت ڈالو گے اور اللہ کو یاد کرو گے تو تم کائنات کے مقاصد میں شمار ہونے لگو لگے تم حق بن جاؤ گے اور اگر تم ایسا کرو گے تو پھر خدا تم سے یہ توقع رکھے گا کہ اس حق کو پھیلاؤ۔کیونکہ حسن کو پھیلانا یہ مومن کی پیدائش کا مقصد ہے اور جوحسن تم نے خدا سے سیکھا ہے اسے اب دنیا میں پھیلانا شروع کر دو۔اس کے نتیجہ میں جب تمہیں بدی ملے، نیکی کے بدلہ میں بدی سے تم سے سلوک کیا جائے تو تم پھر بھی حسن کے ذریعہ اس کا جواب دو اور پہلے سے بڑھ کر احسان کا معاملہ کرو۔ہر برے قول کا جواب خیر کے نتیجہ میں دینا ہے، خیر کی نیت سے دینا ہے اور دل میں بھی خیر ہی رکھنی ہے۔اگر تم یہ کرو گے اور کامل ایمان لاؤ گے پہلی کتب پر بھی اور جو بھی خدا بندوں پر نازل کرتا ہے ان پر تم ایمان لاتے چلے جاؤ گے تو یہ کوئی ایسا فعل نہیں کہ دنیا میں کسی قسم کی دل آزاری ہو سکے۔یہ وہ طریق ہے جو ہمیشہ سے مومن اختیار کرتے چلے آئے ہیں۔فرماتا ہے پھر تمہیں ہم یقین دلاتے ہیں کہ ایسی صورت میں خدا تعالیٰ یقیناً تمہاری