خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 564 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 564

خطبات طاہر جلد ۳ 564 خطبه جمعه ۱٫۵ اکتوبر ۱۹۸۴ء رہنے دے گا بلکہ ان کو تبدیل فرمادے گا اور اس بات پر قادر ہے کہ بالآخر یہ سُوع کا اظہار کرنے والے سور کو سینوں میں چھپانے والے اس صفحہ ہستی سے مٹا دیئے جائیں گے اور خدا کے عفو کر نے والے بندے اور خیر دلوں میں رکھنے والے اور خیر زبان سے جاری کرنے والے اللہ تعالیٰ ان کو غالب فرمائے گا۔تو یہ وہ مضمون ہے جہاں فرمایا إِلَّا مَنْ ظُلِمَ یعنی لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلم کے متعلق میں ذکر کر رہا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ جو ان میں سے ظلم کرنے والے ہیں ان کے ساتھ تم کیا سلوک کرو۔وہ سلوک اس دوسری آیت میں بیان فرما دیا گیا جہاں إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا کہ جو لوگ مظلوم ہیں ان کو کیا کرنا چاہئے؟ تو الا سے مراد وہ لوگ ہیں جو ظلم کرنے والے اور وہ سلوک ہے جس کی تفصیل یہاں بیان فرمائی اور اب پھر حسن بات کو مزید کھول کر بیان کرتا ہے اس وقتی اعراض کے بعد کہ ظلم کیا ہے اور ظالموں سے کیا سلوک تمہیں کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ قول حسن کیا ہے؟ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِى أُنْزِلَ اِلَینا تم ان لوگوں سے کہو کہ جو کچھ خدا نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے ہم اس پر ایمان لانے والے ہیں۔وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ تمہیں کیا تکلیف ہے ہم سے ہم تو اس وحی پر بھی ایمان لاتے ہیں جو تم پر نازل کی گئی یعنی جس پر تم ایمان لاتے ہو۔اگر تو ہماری وحی تمہاری وحی سے اس طرح ٹکراتی کہ جو کچھ تمہارے اوپر نازل کیا گیا یعنی جس پر تم ایمان لاتے ہو اس کا ہم انکار کر دیتے تو پھر ایک ٹکراؤ کی شکل تھی۔ہم تو کلیۂ اس پر ایمان لا رہے ہیں جس پر تم ایمان لاتے ہواس کے علاوہ جس کو ہم خدا کا کلام سمجھ رہے ہیں اس پر بھی ہم ایمان لاتے ہیں تم اس پر ایمان نہیں لاتے اس لئے اگر کوئی غصہ کا موقع ہے تو ہمارے لئے ہونا چاہئے نہ کہ تمہارے لئے۔ہم جو تم کہتے ہو امنا و صدقنا کہتے ہیں۔ایک ایک بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہاں یہ بھی سچ ہے اور یہ بھی سچ ہے اور یہ بھی سچ ہے اور اس کے سوا جو ہم کہتے ہیں تم ہر بات پر کہتے ہو جھوٹ بولتے ہو ، جھوٹ بولتے ہو، جھوٹ بولتے ہو۔اگر عقل سے کام لیا جائے تو غصہ کا موقع تو ہمارے لئے ہونا چاہئے نہ کہ تمہارے