خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 50

خطبات طاہر جلد ۳ 50 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء ہوئے خدام جن کو معلوم ہو کہ ہمارا یہ کام ہے یا انصار بغیر آواز کے بغیر بولے ان کو روک دیں اور یہ بہت اہم بات ہے۔ایک منتظم جماعت کے لئے ہمیشہ مستعد رہنا چاہئے اور اس قسم کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کی طرف توجہ رکھنی چاہئے۔گزشتہ خطبے میں میں نے اللہ تعالیٰ کے صفات عفو اور ستار سے متعلق بیان کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ صفات باری تعالیٰ کا نظام بہت ہی گہرا اور مربوط نظام ہے اور ہر صفت ایک دوسری صفت سے ملتی ہے اور رفتہ رفتہ ایک صفت دوسری صفت میں تبدیل ہوتی چلی جاتی ہے اور صفت کے ہر کنارے پر ایک اور صفت باری کا تعلق موجودرہتا ہے۔اس کے برعکس ان صفات کے فقدان سے بعض بدیاں پیدا ہوتی ہیں اور جس طرح صفات حسنہ کا آپس میں تعلق ہے اسی طرح ان صفات ستیہ کا بھی آپس میں تعلق ہے۔صفات باری تعالیٰ اگر کسی جگہ کو چھوڑ دیں تو وہاں ایک خلا پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ خلا بدیوں سے بھرا جاتا ہے جس طرح روشنی کے فقدان سے تاریکی وہاں پیدا ہو جاتی ہے۔تو اس لئے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے الہی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ صفات باری تعالیٰ کی طرف بہت گہری توجہ دیں۔وہی صفات جب انسان کے سانچوں میں ڈھلتی ہیں تو اخلاق حسنہ بن جاتی ہیں اور جب وہ انسان ان سے محروم رہنا شروع ہو جاتا ہے تو اخلاق ستیہ ہو جاتے ہیں۔اس موقعے پر میں نے عفو اورستاری کے برعکس جو صفات سیئہ ہیں ان کو آج کے خطبہ کے لئے موضوع بنایا ہے۔عفو کا مطلب معاف کرنا بھی ہے لیکن اس کے اصل معنی ہیں ایک چیز کو کلیتہ نظر انداز کر دینا گویا وہ تھی ہی نہیں کوئی۔کوئی گویا اس کا وجود ہی نہیں تھا۔چنانچہ آنحضرت علیہ نے جو عفو کے معنی فرمائے ہیں ان میں یہی مفہوم ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو حیا دار قرار دیا ہے، بے حد حیا کرنے والا ، وہ گناہ کرتے ہوئے بندوں پر نظر رکھتے ہوئے بھی ایسا سلوک فرماتا ہے جیسے اس نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔اس نظر کی حیا کا نام در اصل عفو ہے اور ایسے شخص کو عفو کہتے ہیں۔جس شخص میں عفو نہیں ہوتا وہ اس میں دو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جس طرح عفو کے نتیجہ میں ستاری پیدا ہوتی ہے جو خود کسی بندے سے عفو کا سلوک کرے اس کی فطرت کے خلاف ہے کہ وہ اس کی بدیاں لوگوں تک پہنچائے ، وہ تو اتناشر ما تا ہے کہ اپنے تک بھی وہ بدیاں نہیں پہنچنے دیتا، علم سے خود شرما جاتا ہے، کیسے ممکن ہے کہ وہ دوسروں تک ان بدیوں کو پہنچائے۔