خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 49
خطبات طاہر جلد ۳ 49 49 خطبہ جمعہ ۲۷ / جنوری ۱۹۸۴ء غیبت اور چغل خوری سے پر ہیز ( خطبه جمعه فرموده ۲۷ جنوری ۱۹۸۴ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات قرآنیہ تلاوت فرمائیں: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمَ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُم بَعْضًا اَ يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ * وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (الحجرات : ۱۳) وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَبِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل: ۳۷) پھر فرمایا: خطبہ سے میں پہلے یہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ ابھی ایک صاحب صفوں کو پھلانگتے ہوئے آگے تک پہنچے جو ممنوع ہے، آنحضرت ﷺ نے اس کو نا پسند فرمایا ہے۔سوائے اس کے کہ آگے جگہ خالی ہو اور بیچ میں سے بھی جگہیں خالی ہوں اور ان خالی جگہوں سے گزر کر انسان اگلی صف کو پورا کرے۔جو پیچھے آنے والوں کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ آگے آنے والوں کو تکلیف دیں اور ان کے کندھوں پر سے گزرتے ہوئے اور ٹھوکریں مارتے ہوئے آگے آئیں لیکن جو دوسرا پہلو ہے وہ اور بھی زیادہ قابل فکر ہے کہ منتظمین نے کوئی ایسا انتظام نہیں کیا ہوا کہ اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو بیچ میں بیٹھے