خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 51
خطبات طاہر جلد ۳ 51 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء تو عفو کے نتیجہ میں ستاری پیدا ہوتی ہے اور عفو کے فقدان کے نتیجہ میں دو بدیاں پیدا ہوتی ہیں براہ راست ، ایک ستاری کے فقدان کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔عفوا گر نہ ہو تو سب سے پہلے ظن اس کی جگہ لے لیتا ہے یعنی جو برائیاں نظر نہیں آرہیں ان میں بھی انسان ظن شروع کر دیتا ہے کہ یہ بھی ہو۔چونکہ برائی دیکھنے کا شوق ہوتا ہے، چسکا ہوتا ہے، لطف آتا ہے کسی کی بدیاں دیکھنے کا تو جب وہ بدیاں نظر نہیں آتیں تو عادت جو گندی پڑ چکی ہے، یہ چسکا تو پورا کرنا ہے پھر وہ وطن کے ذریعہ پورا کیا جاتا ہے کہ ہاں یہ نظر تو نہیں آئی لیکن ہو گی ضرور اس کے پیچھے ضرور کوئی خرابی موجود ہے جو مجھے نظر نہیں آئی، اور ظن پھر جنم دیتا ہے تجس کو۔آگے بڑھ کر انسان کہتا ہے اچھا نظر نہیں آئی ، ہوگی تو ضرور تو کیوں نہ میں تلاش کروں ، کھوج نکالوں اور ایسے لوگ دوسروں کی بدیاں تلاش کرنے میں اپنی عمریں عزیز ضائع کر دیتے ہیں اور دوسرے پہلو پر چونکہ ستاری نہیں رہتی ،عفو نہ ہو تو ستاری ہو ہی نہیں سکتی۔ستاری نہ ہونے کے نتیجہ میں پھر یہ بدیوں کو دوسری جگہ پہنچاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بھی پھر دو بدیاں آگے پیدا ہوتی ہیں، ایک غیبت کی اور ایک چغل خوری کی۔غیبت کہتے ہیں ایسی بات کو جو کسی کے غیبت میں کی جائے یعنی غائبانہ طور پر کسی کے متعلق کہی جائے اور وہ بات ایسی ہو کہ اس سے دوسرے کو دکھ پہنچے۔اگر وہ سن لے تو اس کو تکلیف پہنچے۔آنحضرت ﷺ نے جو غیبت کی تعریف فرمائی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غیبت اس بات کو نہیں کہا جاتا کہ اس کے متعلق جھوٹی بات کہیں غیبت اس بات کو کہا جاتا ہے کہ سچی بات کہیں لیکن وہ بات ایسی ہو کہ جس کے نتیجہ میں اسے دکھ پہنچتا ہو۔اگر غائبانہ کی جائے تو اس کا نام غیبت ہے اگر موجودگی میں کی جائے تو اس کا نام دل آزاری ہے۔(مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الغيبة ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ غیبت کرنا تو برا ہے یعنی غائبانہ بات نہیں کرنی چاہئے۔جب ان سے پوچھا جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ میں تو اس کے منہ پر بھی کر سکتا ہوں تو فرمایا ایک اور بدی کرو گے۔پہلے تو غیبت کر رہے تھے اب دل آزاری بھی کرو گے۔تو غیبت کا یہ مفہوم بہر حال نہیں ہے کہ غائبانہ تو نہ کی جائے لیکن سامنے کی جائے۔جب دکھ سے بچانا مقصود ہے سوسائٹی کو تو لازماً غائب کی بات ہو یا حاضر کی بات ہو دونوں ناجائز ہیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی یا اللہ نے اتنی تفصیلی تعلیم دی ہے کہ بدیوں کا (اثر ) جہاں جہاں پہنچتا ہے