خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 513
خطبات طاہر جلد ۳ 513 خطبه جمعه ۱۴ ستمبر ۱۹۸۴ء۔ذرہ کم کرے یا ایک ذرہ زیادہ کرے یا ترک فرائض اور اباحت کی بنیاد ڈالے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ بچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں کہ لا الہ الا الله محمد رسول الله اور اسی پر مریں اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے ان سب پر ایمان لاویں اور صوم اور صلوۃ اور زکوۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اسکے رسول کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کار بند ہوں۔“ (ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۲۳) جس کو نبی سمجھتے ہو اسکی تعلیم پر عمل نہیں کرنا یہ اعلان بن گیا کیونکہ جس کو ہم نبی سمجھتے ہیں وہ تو یہ کہتا ہے جو میں نے پڑھ کر سنایا ہے۔لا اله الا الله محمد رسول اللہ تک مساجد پر اگر لکھنے کی اجازت نہ ہو تو کہا یہ جاتا ہے کہ اس میں انصاف میں کوئی فرق نہیں پڑا ، سو فیصدی قرآن اور سنت کے مطابق تم سے معاملہ کیا جارہا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ حکومت کے نمائندوں کے ساتھ پولیس اور بعض دفعہ فوج کے سپاہی آئے ہیں اور احمدیوں کو مجبور کیا گیا ہے کہ اپنی مساجد پر سے کلمہ طیبه لا اله الا الله محمد رسول الله لکھا ہوا مٹاڈالیں اور بلا استثناء ہر موقع پر احمدی نے یہی جواب دیا ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے نہیں مٹائیں گے نہ تمہارے ملاؤں کو مٹانے دیں گے۔جو کچھ قیامت سر پر گزرتی ہے گزرے، جو تم نے کرنا ہے کرو، ہاں اگر حکومت اپنے ہاتھ سے مٹانا چاہتی ہے، اپنے کارندوں کے ذریعہ مٹوانا چاہتی ہے تو کرے خود ہم یہ لعنت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔چنانچہ حکومت کے نمائندوں نے یہ لعنت قبول کی اور اپنے ہاتھوں سے کلمات طیبات کو مٹایا گیا۔ایک جگہ نہیں ، دو جگہ نہیں ، بیسیوں ایسی مثالیں ہیں اور ابھی عدالت عالیہ شرعیہ کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ جو حرکتیں ہو رہی ہیں ان میں سے کوئی بھی شریعت کے خلاف نہیں ، عین شریعت کے منشاء کے مطابق ہے۔اگر جماعت احمدیہ کا نعوذ بالله من ذلک قرآن پر ایمان نہیں تو یہ حق تو تم دے چکے کہ حضرت مرزا صاحب پر ایمان ہے اور ان کی تعلیم پر ایمان ہے تو ان کی تعلیم تو وہ ہے جو میں نے پڑھ کر سنائی ہے، اس میں تو سب سے اول کلمہ طیبہ ہے اور پھر نماز