خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 514
خطبات طاہر جلد ۳ اور ا سکے لوازمات ہیں۔514 خطبه جمعه ۱۴ ستمبر ۱۹۸۴ء دوسرا فیصلہ یہ ہوا کہ تمہیں حضرت مرزا صاحب کو نبی ماننے کی تو اجازت ہے لیکن جب وہ کہیں مسجدیں بناؤ تو مسجد کو مسجد کہنے کی اجازت نہیں اس کا نام گر جارکھ لو ، مندررکھ لوجو بھی چاہو پسند کرو لیکن مسجد نہیں کہہ سکتے حالانکہ تمہارے امام نے تمہیں مسجد ہی بنانے کے لئے کہا ہے۔اذان کے متعلق امام کا حکم ہے تو تم نے نہیں ماننا اسکی بجائے کچھ ڈھول بجاؤ، کوئی صور پھونکو جو چاہو کر ولیکن بہر حال اذان نہیں دینی اس سے دل شکنی ہو رہی ہے۔تو ہر وہ حق جو نبوت کا ہے وہ چھین لیا گیا ہے اور محض نام میں نبی تسلیم کرنے کے حق کو یہ کہتے ہیں کہ یہ عین شریعت اسلامیہ کے مطابق اور مبنی بر انصاف فیصلہ ہے۔اسکی مثال تو بالکل وہی بنتی ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے کہ میں تمہیں انسان کا بنیادی حق دینے پر کوئی اعتراض نہیں رکھتا۔تم ہر انسان کے بنیادی حق کو استعمال کرنے کے مجاز ہو لیکن اسکی تشریح یہ ہے میں جب کہتا ہوں کہ تم انسان کہلانے کے مجاز ہو انسانی حقوق رکھنے کے مجاز ہو تو میری تشریح یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو انسان سمجھ سکتے ہو اور یہی مراد ہے انسانی حقوق سے لیکن تم انسانوں والی خوراک نہیں کھا سکتے تمہیں گھاس پھوس کھانا پڑے گا اور وہ غذا جو جانور کھاتے ہیں ہر قسم کی وہ استعمال کرو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔انسان کہلانا اور بات ہے تمہارا بنیادی یہ حق ہے اس سے تمہیں باز نہیں رکھ رہے لیکن انسانوں کی طرح کھانا کھانے لگ جاؤ یہ کس طرح برداشت ہو سکتا ہے؟ انسان سمجھنے کا ہم تمہیں حق دیتے ہیں لیکن انسان کہلانے کا حق بھی نہیں دیتے۔تم کہا نہ کرو اپنے آپ کو انسان کیونکہ اس سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔تمہیں یہ تو حق ہے کہ تم انسان سمجھو اپنے آپ کو لیکن یہ حق نہیں ہے کہ زبان استعمال کرو کیونکہ کلام کرنا تو انسان کا کام ہے اور ہم تمہیں کسی حق سے محروم نہیں کر رہے۔دیکھو ہم تمہیں کہتے ہیں تم اپنے آپ کو انسان سمجھو لیکن بولنا نہیں انسانوں کی طرح، ہم تمہیں کہتے ہیں تم اپنے آپ کو انسان سمجھو مگر انسانوں کی طرح لکھنا بھی نہیں ہے کیونکہ قلم استعمال کرنا جانور کو کب ہم نے حق دیا ہے، جانور کا تو کام ہی نہیں کہ قلم سے کام لے، ہنسنا انسان کا کام ہے ہم تمہیں حق دیتے ہیں کہ تم اپنے آپ کو انسان سمجھو مگر ہنسنے کا حق نہیں دیتے۔ہر وہ حق جو انسان کا ہے وہ چھین لیا اور انسان سمجھنے کی اجازت دے دی اور فیصلہ یہ ہے کہ تمہیں کسی بنیادی حق سے محروم نہیں کیا۔اب اس کو انصاف کہیں گے یا ظلم کہیں گے یہ فیصلہ تو کرنے کا ایک طریق ہے وہ میں ابھی