خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 512
خطبات طاہر جلد ۳ 512 خطبه جمعه ۱۴ ستمبر ۱۹۸۴ء ہونی چاہئے۔میرا یہ کام نہیں ، میں تو صرف اس حصے سے متعلق کچھ بیان کروں گا کہ آیا اس عدالت کا فیصلہ قرآن کی رو سے منی بر انصاف ہے یا نہیں ؟ اگر انصاف پر مبنی نہیں ہے اس کا حق بہر حال نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو شرعی عدالت سمجھے۔فیصلے کا جو خلاصہ انہوں نے بڑا افراتفری میں فوری طور پر لکھ کر دیا ہے اس کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ پر کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں کیا گیا ، جماعت احمد یہ کوکسی بنیادی حق سے محروم نہیں کیا گیا اور حکومت جماعت احمدیہ کو اجازت دیتی ہے کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو چاہو تو نبی تسلیم کر وشوق سے کرو اور مسیح موعود مانتے ہو تو بیشک مانو۔جب یہ دو باتیں تمہیں بتا دی گئی ہیں حکومت کی طرف سے کہ تم اپنے سلسلہ کے بانی کو نبی بھی یقین کرو اور مسیح موعود بھی تسلیم کر تو پھر تمہیں کیا اعتراض ہے یا پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ تمہارے بنیادی حقوق میں دخل اندازی ہو رہی ہے۔یہ ہے خلاصہ اس منطق کا لیکن اس کے ساتھ ہی اسکے کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔فیصلہ یہ ہے کہ اگر چہ تمہیں تو حق ہے بنیادی طور پر یہ تو حق ہے کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو نبی تسلیم کر لیکن نبی کے لوازمات اسکے متعلق استعمال نہیں کرنے۔نبی جس چیز کو کہا جاتا ہے، اسکے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں ان میں سے کوئی نتیجہ بھی اس کے بارے میں ہم تمہیں اختیار کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔مثلاً جب کوئی انسان کسی کو نبی تسلیم کرتا ہے تو وہ اسکے متعلق مسنون دعا ئیں جو نبی کے لئے ثابت ہیں قرآن سے بھی اور سنت سے بھی وہ خود بخود زبان پر آتی ہیں۔عليه الصلوۃ والسلام کے بغیر کوئی شخص کسی نبی کا ذکر نہیں کرتا۔تو عدالت کہتی ہے دیکھو! ہم نے تمہیں بنیادی حق سے تو محروم نہیں کیا، نبی تو تسلیم کرنے دیا ہاں نبی کے لوازمات ہم نہیں مانیں گے نبی والا سلوک نہیں کرنے دیں گے اس سے صرف نبی تسلیم کرنے دیں گے اور تمہارے بنیادی حق پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑتا۔کہتے ہیں نبی جس کو تسلیم کیا جاتا ہے اسکی اطاعت بھی کی جاتی ہے اسکی تعلیم پر بھی عمل کیا جاتا ہے لیکن ہم تمہیں نبی تسلیم کرنے کی تو اجازت دیتے ہیں اسکی تعلیم پر عمل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتے ، وہ تعلیم کیا ہے، جس کو ہم نے نبی تسلیم کیا اس نے ہمیں کیا کہا؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعت اسلام میں سے ایک