خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 474
خطبات طاہر جلد ۳ 474 کہا جاتا ہے چنانچہ جب بھی اختلاف کی صورت ہو ہدایت یہ ملتی ہے۔خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ ( النساء:۲۰) نہ کسی عدالت کا ذکر نہ کسی حاکم یا آمر کا ذکر۔فرمایا جب بھی تمہارا اختلاف ہو ایک ہی شریعت ہے اور ایک ہی عادل ہے اس شریعت کا تو اللہ یعنی قرآن کی طرف رجوع کرو اور شریعت کے فیصلوں پر خدا نے جسے مقرر فرمایا ہے اس کی طرف رجوع کرو۔اس کے علاوہ تنزل کے طور پر اگر دوسرے درجہ پر اتر کر دیکھیں تو پھر خلیفہ وقت کی حیثیت بنتی ہے شرعی عدالت کا فیصلہ کرنے کی۔یعنی وہ بھی خلافت کے رنگ میں شرعی عدالت کہلا سکتا ہے لیکن وہ لوگ جن کی یہ ساری شرعی عدالتیں ماضی میں رہ گئی ہوں ان کے لئے کیا صورت ہے؟ نہ کوئی ایک خلیفہ ہو جس کی وہ متابعت کرنے کے پابند ہوں اور نہ کوئی اتحاد ہو عالم میں، بے انتہا اختلافوں کی امت شکار ہو چکی ہو تو کیا قرآن کریم اس صورت حال پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور کوئی طریق کار بیان فرماتا ہے جس سے عدالتیں شرعی عدالتیں کہلا سکیں؟ تو یہ کیسی عظیم کتاب ہے کہ اس صورت حال کا بھی ذکر فرماتی ہے لیکن عدالت کے قیام کا حق کسی کو نہیں دیتی۔ہر عدالت کو ایک لائحہ عمل دیتی ہے، ایک نصیحت کرتی ہے کہ اگر تم اس طریق کار کے مطابق کام کرو گے تو تمہاری حیثیت شرعی عدالت کی حیثیت ہو جائے گی اور وہ یہ قانون ہے: قن وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (النساء:۲۰) کہ اسے دنیا کی تمام عدالتو! اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی نمائندگی تمہیں بھی نصیب ہو جائے تو قطع نظر اس کے کہ تمہیں کس نے مقرر کیا ہے؟ کیا تمہاری حیثیت ہے، اپنے ملک میں یا بین الاقوامی حیثیت کے لحاظ سے ایک بات کے پابند ہو جاؤ : اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (النساء:۲۰) عدل سے کام لو اور اگر تم عدل سے کام لو گے تو خدا کی نظر میں تمہارا یہ فیصلہ درست اور شرعی فیصلہ ہوگا اور اگر عدل سے گر جاؤ گے تو قطع نظر اس کے کہ تمہیں کس نے مقرر کیا ہے کسی اسلامی حکومت نے مقرر کیا ہے یا عیسائی حکومت نے مقرر کیا ہے بہر حال جو بھی تمہارا فیصلہ ہوگا اس کو شریعت محمدیہ سے کوئی نسبت نہیں ہوگی۔دوسری جگہ جہاں تنازعہ کا ذکر فر مایا وہاں بھی عدالت تو مقرر نہ فرمائی لیکن یہ طریق ضرور