خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 473 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 473

خطبات طاہر جلد۳ 473 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء شرعی عدالت کی دینی حیثیت خطبه جمعه فرموده ۳۱ راگست ۱۹۸۴ء بمقام مسجد فضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعَمَا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (النساء: ۵۹) اور پھر فرمایا: پاکستان سے بعض دوست جو یہاں تشریف لائے اور مجھ سے ملاقات کا بھی ان کو موقع ملا اور مجھے ان سے ملاقات کا موقع ملا ان کی بعض باتوں سے مجھ پر یہ تاثر ہے کہ پاکستان کے بعض احمدی اس بارہ میں تشنگی محسوس کرتے ہیں کہ شرعی عدالت کی شرعی حیثیت کیا ہے اور ان کی یہ خواہش ہے کہ اس موضوع پر میں نسبتا تفصیل سے روشنی ڈالوں کہ قرآن اور سنت کی رو سے شرعی عدالتوں کے قیام کا کس حد تک جواز ہے؟ کس کو یہ حق ہے؟ ان کے فیصلے کی شرعی نوعیت کیا ہوگی ؟ اور جو ایسی عدالت میں جائیں ان پر پھر شرعی ذمہ داری کیا عائد ہوتی ہے؟ چنانچہ اس پہلو سے جب میں نے قرآن کریم پر غور کیا تو مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ شرعی عدالت کے قیام کے نظام کا قرآن کریم میں کوئی ذکر نہیں۔ایک ہی شرعی عدالت کا ذکر ملتا ہے اور وہ جو اللہ کا رسول ہے یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی عمل ہے جو اس قانون کے تابع ہے جس کو شریعت