خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 41
خطبات طاہر جلد ۳ 41 خطبہ جمعہ ۲۰/جنوری ۱۹۸۴ء دیکھ کر متغیر ہوگیا۔مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ کو اس کام میں کچھ کر اہت آ رہی ہے۔آپ نے فرمایا کیوں نہ آئے میں اپنے بھائیوں کی دشمنی میں شیطان کا مددگار نہیں ہونا چاہتا۔اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کر دے اور بخش دے تو تم کو چاہئے کہ لوگوں کے گناہوں کو چھپاؤ کیونکہ جب تم سلطان کے پاس جاؤ گے تو حد جاری کرنا اس پر ضروری ہو جائے گا۔(کتاب الاخلاق صفحه : ۲۷۳) بہت ہی پر حکمت تعلیم ہے۔ستاری کہاں کی جاسکتی ہے اور کہاں نہیں کی جاسکتی ، کہاں عفو پر ہاتھ کھلے ہیں کہاں بندھ جاتے ہیں اور جماعت کو خاص طور اس حدیث کے مضمون پر غور کرنا چاہئے۔اگر کوئی کسی میں برائی دیکھتا ہے تو یہ ایک غلط نہی ہے کہ اس برائی کو لازماً شکایت کر کے سزا دلوانی چاہئے۔یہ فرض نہیں ہے آپ کا۔آنحضرت ﷺ نے نا پسند فرمایا ہے اس بات کو لیکن کن برائیوں میں۔شکایت کرنی چاہئے اور کن میں نہیں کرنی چاہئے ، یہ ایک الگ مضمون ہے۔نہ کرنے والی باتیں جہاں تک ہم نے معلوم کیں حدیث سے اور اسوہ سے وہ وہ ہیں جہاں ذاتی قصور ہے کسی انسان کا ، انفرادی قصور ہے اور جہاں نظام جماعت یا نظام اسلام کے خلاف کوئی شرارت ہے وہاں ایک مرتبہ بھی آنحضور ﷺ نے بات پہنچانے سے منع نہیں فرمایا بلکہ ان باتوں کو اس طرح سنتے تھے غور سے اور توجہ سے کہ قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ غیر طعنہ دیا کرتے تھے کہ وہ اذن ہے، وہ تو مجسم کان ہے شکائیتیں سننے کے لئے۔فرمایا ذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ (التوبة : 1) ہے تو وہ مجسم اُذن لیکن جس طرح تم کہہ رہے ہو ان معنوں میں نہیں خیر کے لئے اذن ہے۔وہ وہ باتیں غور سے سنتا ہے جن سے قومی بھلائیوں کا تعلق ہے اور جن سے قومی بھلائیوں کا تعلق نہیں ان سے صرف نظر کرتا ہے اور ہرگز ان کو نہیں سنتا۔تو آنحضرت ﷺ کا اسوہ اس میں تفریق فرما رہا ہے جہاں قومی نقصان کے خطرے ہوں وہاں ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ بات کو متعلقہ نظام تک پہنچائے۔جہاں انفرادی غلطیاں ہوں وہاں آنحضرت ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ ان سے صرف نظر بھی کرو اور ان کو ان لوگوں تک پہنچانے سے حیا کرو کہ جن تک اگر پہنچ گئی تو ان کا فرض ہو جائے گا کہ وہ سزاد یں ان کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں وہاں، وہ نظام کے نمائندہ ہوتے ہیں نظام کو جاری کرنا خدا نے ان کی ذمہ داری ڈالی ہوتی ہے۔جب ان تک