خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 40
خطبات طاہر جلد ۳ 40 إِنَّ اللهَ عَزَوَجَل يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسِّتْرَ (مسند احمد کتاب مسند الشامیین حدیث یعلی بن امیہ ) خطبہ جمعہ ۲۰/جنوری ۱۹۸۴ء اللہ عز وجل حیا کو پسند فرماتا ہے، محبت کرتا ہے حیاء سے اور ستر ( پردہ پوشی ) سے محبت کرتا ہے۔پھر حضور اکرم ﷺ کے متعلق سنن ابی داؤد میں حضرت معاویہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تو لوگوں کی کمزوریوں کے پیچھے پڑے گا تو تو انہیں بگاڑ دے گا یا ان میں بگاڑ کی راہ پیدا کر دے گا اس لئے عفو سے ہی کام نہ لے بلکہ ستاری سے کام لے۔ان کی کمزوریوں کو ہوا نہ دے بلکہ ان کمزوریوں پر پردہ ڈھانپ۔پھر صفوان بن یعلی کی ایک روایت ہے مسند احمد بن حنبل میں وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم نے فرمایا: انَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ حَيَى سَتِيرٌ فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَى بِشَيءٍ۔(سنن نسائی کتاب الغسل واتیم باب الاستار عند الغسل ، مسند احمد کتاب مسند الشامیین باب حدیث یعلی بن امیہ ) کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عز وجل بہت حیا کرنے والا ہے اور ستیر ہے۔ستار کے معنی اور ستیر کے معنی ملتے تو ہیں لیکن ان کے اندر فرق ہے۔ستیر صفت مشبہ بالفعل ہے جس کا معنی ہے کہ ایک مسلسل ستر کا سلوک بغیر روک کے بغیر توڑ کے جاری وساری ہے اسکی ذات میں اور جن قوانین کا میں نے ذکر کیا وہ بھی ستیر کی علامت ہیں کسی امر واقع پر کسی لغزش پر فعلاً خدا کا ستاری کرنا یہ ستار سے تعلق رکھنے والی بات ہے لیکن ایک جاری و ساری قانون کے طور پر بندوں کی حفاظت فرما نا اور ان کو غیر کی آنکھ سے محفوظ رکھنا یہ زیادہ تر ستیر سے تعلق رکھتا ہے۔فرمایا کہ تم بھی صرف اپنے اندرونے کے ستر نہ ڈھانکا کر واپنے ظاہر کے ستر بھی ڈھانکا کرو۔اور اسلام کی جتنی تعلیم بدن کو ڈھانپنا، حیا کرنا اس مضمون میں عورتوں اور مردوں کے متعلق جو تفصیلی تعلیم ملتی ہے اس کا سب کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت ستاری سے ہے یعنی بحیثیت ستیر وہ یہ احکام جاری فرماتا ہے۔حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو چوری کے الزام میں آنحضرت عیلی سامنے پیش کیا گیا تا کہ آپ اس کے ہاتھ کو کاٹنے کا حکم صادر فرما ئیں۔حضور ﷺ کا چہرہ یہ حالات