خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 42
خطبات طاہر جلد۳ 42 خطبہ جمعہ ۲۰ / جنوری ۱۹۸۴ء بات پہنچ جائے تو پھر وہ مجبور ہو جاتے ہیں۔میر ان لوگوں کا بھی جواب ہے وہ بعض دفعہ جب میں تعلیم دیتا ہوں عفو کی اور مغفرت کی ایسی باتوں کی تو بعض لوگ پھر لکھتے ہیں کہ جناب ہمیں تو آپ نے پکڑ لیا فلاں بات پر ، ہم سے تو عفو کا سلوک نہیں کیا ، ہم سے تو مغفرت نہیں کی گئی۔انہی باتوں پر پکڑا جاتا ہے جن میں انسان مجبور اور بے اختیار ہو جاتا ہے اور سیرت محمد مصطفی ﷺ کے تابع دیکھ کے ساتھ پکڑا جاتا ہے، تکلیف محسوس کر کے پکڑا جاتا ہے، خوشی کے ساتھ نہیں پکڑا جاتا۔چنانچہ حضور ﷺ کی یہ حالت جو تھی اس قدر آنحضور ﷺ کو دکھ پہنچا کہ مجھے مجبور کیا جارہا ہے ایک مومن بھائی کے ہاتھ کاٹنے پر کہ آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا، صحابہ نے وہ دکھ دیکھ لیا اور پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ کیوں تم مجھے مجبور کرتے ہو کیونکہ میری حالت یہ ہے کہ میں نظام کو نافذ کرنے پر مامور کیا گیا ہوں ، اگر مجھ تک تم بات پہنچا دو گے تو پھر میں بے اختیار ہو جاتا ہوں اس لئے تمہیں اختیار تھا کہ تم یہ بات نہ پہنچاتے۔اس کو کہتے ہیں ستاری اور کس طرح کھول کھول کر حضرت محمد مصطفی علی با تیں بیان فرماتے ہیں، حیرت انگیز رسول ملے ہیں، کوئی آپ کا ثانی نہیں دنیا میں، کوئی مثال نہیں مل سکتی جس نے اس طرح کھول کھول کر اللہ تعالیٰ کے نشانات کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہو اور اس طرح بار یکی اور لطافت کے ساتھ مضامین کو کھول کر بیان فرمایا ہو۔چنانچہ قرآن کریم اس پر نظر کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَكَذَلِكَ نُصَرِفُ الْآيَتِ وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ (الانعام:۱۰۶) اے محمد ! ہم تیرے اوپر آیات کو خوب بدل بدل کر پلٹ پلٹ کر پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں اسی لئے تیری یہ تربیت کر رہے ہیں کہ جن تک تو پیغام پہنچائے وہ کہہ اٹھیں کہ ہاں تو نے تدریس کا حق ادا کر دیا کوئی پہلو باقی نہیں چھوڑا ، اپنے فرض رسالت کو خوب خوب روشن کیا خوب عمدگی کے ساتھ ادا کیا۔آنحضور ﷺ سے متعلق حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں اور یہ سنن ابن ماجہ کی حدیث ہے فرمایا: